ابن رشد — Page 121
آئے ان کی تعداد ایک سو سے متجاوز تھی۔صرف دینیس (اٹلی) کے مطبع خانے سے اس کی کتابوں کی جو مختلف اشاعتیں نکلیں وہ پچاس سے زیادہ تھیں۔1482ء میں کتاب الکلیات اور رسالہ جواهر الکون شائع ہوئیں، پھر 1483ء میں ارسطو کی مکمل تصنیفات کی شروح اور تلخیصات کے ساتھ شائع ہوئیں۔پیڈ وا یو نیورسٹی (اٹلی) کے مطبع خانے نے پندرہویں صدی میں اس کی تصنیفات کا حق طباعت اپنے لئے محفوظ کر رکھا تھا، کیونکہ اب کتابیں پرنٹنگ پریس پر چھپنا شروع ہو گئی تھیں۔یہ چیز قابل غور ہے کہ 1500 ء سے لے کر 1550 ء تک کی وہ کتابیں جن کا تعلق ارسطو سے تھا ان کے تراجم عبرانی سے لاطینی میں کئے گئے۔تراجم کا یہ کام زیادہ تر اٹلی میں ہوا۔چنانچہ سولہویں صدی کے نصف میں گیارہ جلدوں میں ارسطو ایڈیشن شائع ہوا۔پھر و فیس سے تین مزید تختیم ایڈیشن شائع ہوئے۔لیو آن (Lyon) فرانس سے کی شرحوں پر یور چین شرمیں اسی عرصے میں شائع ہوئیں۔(54) سب سے پہلے جس شخص نے عبرانی میں اس کی کتب کے ترجمے کئے وہ جیکب اناطولی نیپلس (Jacob Anatoli Naples ) تھا اس کے بعد جوزا کو ہن (Judah Cohen نے عبرانی میں تراجم گئے۔جبکہ لاطینی میں سب سے پہلے جس شخص نے کی تصنیفات عالیہ سے یوروپ کو روشناس کرایا وہ مائیکل اسکاٹ (1220) Michael Scott) تھا۔وہ سٹی کے شہنشاہ فریڈرک دوم ( قیصر جرمنی) کا درباری مترجم تھا۔اس نے سب سے پہلے شرح کتاب السماء و العالم اور شرح مقاله فى الروح کا لاطینی میں ترجمہ کیا۔پھر اس نے مقالہ فی الكون والفساد اور جواہر الکون کے تراجم کئے۔لاطینی میں ارسطو کی جن کتابوں کے مائیکل نے ترجمے کئے وہ یہ ہیں: De Caelo, De Anima, Physica, Meteorologica, De Generatione Animalum and Parva Naturalia اس طرح کی وفات کے صرف پچاس سال بعد یورپ اس کے نام اور کام سے متعارف ہو چکا تھا۔مائیکل کے علاوہ ہر مسن دی جرمن (Herman the German) نے بھی ارسطو کی کتابوں اور شرحوں کے تراجم میں حصہ لیا۔راجر بیکن کا کہنا ہے کہ عہد وسطی میں ارسطو ازم کے احیاء کا سراسرذمہ دار مائیکل اسکاٹ تھا۔ابن رشد کی ان شرحوں کے ذریعے یورپ سائنس اور مذہب میں مطابقت جیسے مسائل سے آگاہ ہوا اور وہاں عقلیت پسندی کی تحریک نے جنم لیا۔اس تحریک کے شروع ہونے سے یورپ افلاطون ( ارسطو کے استاد ) کے نظریات کے طوق سے آزاد ہو گیا۔سے پہلے اسلامی ممالک میں مسلمان فلاسفہ (فارابی ، ابن سینا) نے ارسطو کے نظریات کو سمجھنے اور 121