ابن رشد

by Other Authors

Page 119 of 161

ابن رشد — Page 119

الہیات کے مذہبی مسائل یونانیوں کی الہیات میں موجود نہیں تھے۔ابن سینا نے پہلی مرتبہ ان مسائل کو الہیات میں شامل کیا۔مثلاً حشر اجساد کے انکار کے متعلق پرانے فلاسفہ کا کوئی قول نہیں ملتا ہے۔اسی طرح پرانے فلاسفہ نے معجزات پر کوئی بحث نہیں کی۔کہتا ہے : " ان کے مبادی امور طبیہ میں ہیں جو عقل انسانی سے بالا تر ہیں۔اس لئے باوجود ان کے اسباب کے نہ معلوم ہونے کے ان کا اعتراف کرنا چاہئے ، کیونکہ قدماء ( یونانی فلاسفہ ) میں سے کسی نے معجزات پر کلام نہیں کیا " ( تهافته التهافة صفحہ 124) علم الہیات میں ابن سینا نے اس قدر اضافے اور تبدیلیاں کیں کہ اس کی شکل ہی بدل گئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ یونانیوں کا علم الہیات بہت ناقص تھا اس لئے جب تک اس میں متکلمین اسلام کی آراء شامل نہ کی جاتیں، یہ علم نامکمل رہتا۔اس کے علاوہ ابن سینا نے حکماے قدیم سے بہت سے مسائل میں اختلاف کیا۔اس اضافے اور اختلاف کا مقصد حکمت اور شریعت میں تطبیق پیدا کرنا تھا۔ابن سینا نے ایک اور بڑا علمی کام یہ کیا کہ اس نے تصوف کو علمی اصولوں پر مرتب کیا، اور اس کے مسائل کو عقلی دلائل سے ثابت کیا۔(52) جارج سارٹن کی رائے اس باب کو ہم جارج سارین کی رائے پر ختم کرتے ہیں۔"Ibn Rushd's originality appeared chiefly in his way of interpreting anew the teachings of the wise men who had come before him۔He was primarily a realist, a rationalist۔His superiority over Ibn Sena and other Muslim philosophers lay partly in his better knowledge of Aristotle۔Ibn Rushd's philosophy was essentially a return to scientific philosophy opposite tendencies of the largely stimulated by which was Al-Ghazali۔Ibn Rushd was at once the greatest and the last of their philosophers۔" (53) 119