ابن رشد — Page 110
خدا پر ایمان خدا کا خالق و مالک ہونا ، خدا کا رب العالمین ہوتا، کائنات کی تخلیق ، نبوت کی حقانیت ، اور روز محشر دوبارہ اٹھایا جاتا، یہ ایسے مسائل تھے جن کے بارے میں اس کا نظریہ تھا کہ ان کو ہر طور پر بلا حیل و حجت شرح صدر سے تسلیم کرنا چاہئے۔کہتا تھا کہ فلسفہ پیغمبروں میں ہمیشہ سے چلا آیا ہے، خدا کی رحمت ان لوگوں پر ہو: i Philosophy has always existed among the adepts of revelation i۔e۔prophets, peace be on them۔فصل المقال میں اس نے فلسفہ کے مستحسن ہونے کے دلائل اسلامی شریعت سے اخذ کئے، اور کہا کہ قرآن پاک میں مظاہر فطرت کے مطالعہ پر خاص تاکید کی گئی ہے (ان فی خلق السموت والارض واختلاف الليل والنهار لايت لا ولی الالباب ) اور فطرت کے مطالعے کے لئے منطق اور دیگر سائنسی علوم کی تحصیل ضروری ہے۔خاص طور پر یونانی علوم کی۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سائنسی علوم کے مطالعہ سے حاصل شدہ نتائج کتاب اللہ سے تناور کھتے ہوں تو پھر کیا کیا جائے؟ نے کہا کہ چونکہ دونوں صداقت کا ماخذ ہیں اس لئے دونوں میں مطابقت تلاش کرنی چاہئے ، فرمایا: Truth does not oppose truth, but accords with it and bears witness to it۔اس حوالے سے مترشح ہوتا ہے کہ کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ وہ دوہری صداقت (Double Truth) پر یقین رکھتا تھا ، وہ صریحاً غلط ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عمر بھر فلسفہ اور مذہب اسلام میں مطابقت تلاش کرتا رہا۔وہ کہتا تھا کہ فلسفہ (سائنس) اور مذہب میں تضاد کی صورت میں انسان کو مذہب کے احکام پر عمل کرنا چاہئے۔فلسفہ کیا ہے؟ کائنات کی اشیاء کی حقیقت یا ماہیت کو معلوم کرنے کا نام فلسفہ ہے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ عالم موجودات کے حقائق کے علم کا نام فلسفہ ہے۔فلسفہ کی درج ذیل تعریف سے اس کے خدا کی ہستی پر مکمل یقین کا اظہار ہوتا ہے: "An inquiry into the meaning of existence and believe that God is the order, force, and mind of the universe۔۔۔۔۔" یعنی فلسفہ ہمارے وجود کے معنی کے متعلق چھان بین اور اس بات پر یقین کا نام ہے کہ خدا اس کائنات کا کار فرما، اس کی توانائی اور نفس ہے۔" نکته برنج نکتہ شناس نے تلقین کی کہ ایسے فلسفیانہ خیالات صرف ان لوگوں کو بتلائے جائیں جو ایسے 110