ابن رشد — Page 89
کر فلسفیوں کو کرشمات کے بارے میں سوال نہیں اٹھانے چاہئیں، ایسا شخص جو ان کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتا ہے سزا کا مستحق ہے۔ہاں یہ بھی جانا چاہئے کہ اسلام کا اصل کرشمہ اس بات میں مضمر نہیں کہ سونٹے کو سانپ میں تبدیل کر دیا جائے بلکہ اسلام کا سب سے بڑا کرشمہ قرآن مجید ہے اور یہ کرشمہ تمام کرشموں پر فوقیت رکھتا ہے۔(تهافت التهافة صفحہ312، جلد اول انگریزی ترجمہ Van den Bergh )۔پچھلی صدی کے مسلمان علما میں محمد عبدہ (مصر) اور سید امیر علی (ہندوستان) نے کے اس نظریے سے اتفاق کیا اور اب اسلامی ممالک میں اس نقطہ نظر کو قبولیت کی سند حاصل ہو چکی ہے۔فطرت کے تمام قوانین پر مکمل یقین رکھتا تھا اور کہتا تھا کہ اس دنیا میں ہر چیز مکمل تواتر سے وقوع پذیر ہوتی ہے جس کو علت اور معلول (Cause and Effect) کو پیش نظر رکھتے ہوئے سمجھا جا سکتا ہے۔سائنس کی طرف جانے کا راستہ مذہب سے شروع ہوتا ہے جس کی بنیاد یقین پر ہے۔مادہ پرستوں اور متشکک افراد کے لئے سا ئنس میں کوئی جاہہ نہیں ہے۔دنیا کی ہستی پر اعتماد سے ہی ہماری عقل چیزوں کی علت دریافت کرتی ہے۔سائنسی علم در حقیقت اشیاء کا علم اور ان کے عمل کا نام ہے جو ان کو پیدا کرتی ہیں۔(Scientific knowledge is the knowledge of things with their causes which produce them۔) کا ذکر انسائیکلو پیڈیا میں انسائیکلو پیڈیا آف ایسٹرونومی اینڈ ایسٹرو فزکس میں پر بطور بیت داں پیش کردہ مضمون کے مطالعے سے اس موضوع پر مزید دلچسپی رکھنے والے حضرات استفادہ کر سکتے ہیں۔http://eaa۔ioo۔org/index۔cfm?action=summary&doc کہا جاتا ہے کہ بڑے بڑے سائنس دانوں نے جو انقلاب آفریں سائنسی پیش گوئیاں کیں وہ انہوں نے 25 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے کی تھیں۔اس ضمن میں نیوٹن ، آئنسا ئین اور پروفیسر عبد السلام کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔کی سائنسی زندگی پر غور سے نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بھی پچیس سال کی عمر کے لگ بھنگ زبر دست سائنسی کارنامے انجام دئے۔بعض لوگ فطرتاً ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت کے جو ہر دھیرے دھیرے کھلتے ہیں ، جوں جوں عمر رسیدہ ہوتا گیا اس کی باکمال شخصیت کے جو ہر کھلتے گئے۔علما اور حکما کو احساس ہوگیا کہ وہ اندھیری رات میں چمکتا چراغ تھا۔اس بے مثل چراغ نے اپنی نو پاشیوں سے یورپ کو منور کیا 89