ابن رشد — Page 83
کہ اس نے میلی لیو اور اس کے اساتذہ کی مل کو علمی غذا فراہم کی۔قرطبہ کا زلزلہ جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ میں مشاہدے کی قوت غیر معمولی حد تک ودیعت کی گئی تھی۔اس کی مثال قرطبہ کا وہ زلزلہ ہے جو 1170ء میں آیا۔اس وقت اشبیلیہ میں مقیم تھا۔قرطبہ کے شہریوں نے مشاہدہ کیا کہ زمین نے کس شدید قوت سے حرکت کی کہ ہر طرف ہلچل مچ گئی۔گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔نے جو کچھ مشاہدہ کیا وہ اس طرح تھا۔" میں مین وقت پر قرطبہ میں موجود نہیں تھا لیکن جب میں وہاں پہنچا تو میں نے ایسی گڑگڑاہٹ کی آوازیں نہیں جو زلزلہ سے پہلے آتی ہیں۔لوگوں نے دیکھا کہ گڑگڑ کی آواز قرطبہ کے مغرب کی طرف سے آئی اور اس کے ساتھ ہی زلزلہ سے جو خوفناک آندھی چلی وہ بھی مغرب کی جانب سے آرہی تھی۔دہشت انگیز زلزلے کے خفیف جھٹکے (Siesmic T remors) قرطبہ میں اگلے سال تک آتے رہے اور تین سال تک ایسا ہوتا رہا۔پہلے زلزلے میں بہت سارے لوگ مارے گئے اور ان کے گھر منہدم ہو گئے۔کہتے ہیں کہ قرطبہ کے نزدیک ایک مقام اندو جارا پر زمین شق ہو گئی اور اس میں سے راکھ اور ریت سے ملتی جلتی چیز ہوا میں اڑنے لگی۔جس کسی نے یہ (زلزلہ ) خود دیکھا وہ اس کی صداقت پر یقین رکھتا تھا۔زلزلہ بالعموم اندلس کے جزیرہ نما کے مغربی حصہ میں زیادہ محسوس کیا گیا لیکن یہ سب سے زیادہ زور دار قرطبہ اور اس کے گردو نواح میں تھا۔قرطبہ کے مشرقی حصہ میں یہ شہر کے اندرون کے مقابلہ میں زیادہ زور کا تھا ، جبکہ مغرب میں یہ بہت ہلکا تھا۔(تلخیص آثار العلویہ Meteorology 64، اقتباس از www۔muslimphilosophy۔com/Averroes) بائبل میں مذکور تخلیق کے نظریے سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔اس نے اسلامی نقطہ نظر سے تخلیق کائنات کا نیا نظریہ پیش کیا۔اس کا یقین تھا کہ خدا ازل سے ہے۔خدا ہی محرک اول (Prime Mover ) ہے۔وہ قرآن مجید کے ہر لفظ ، ہر شوشہ پر صدق دل سے ایمان رکھتا تھا۔اور کہتا تھا کہ قرآن کی آیات کے مطالب دو طریق سے سمجھنا چاہیے۔عام انسانوں کو صرف اس کے لفظی معنی بتلائے جائیں۔فلسفیوں اور دانش وروں کے لئے اس کی پر معارف آیات میں دوسرے معنی پوشیدہ ہیں جو فلسفہ سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے حکیم ( فلسفی ) کو چاہئے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کی تاویل کرے مگر سادہ لوح لوگوں کو نہ بتلائے۔اس کے نزدیک خدا کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز ( جزئیات ) پر بھی حاوی ہے کیونکہ خدا نے ہی تو ان اشیاء کو بنایا ہے۔کتاب الحیوان کی تفسیر لکھتے ہوئے اس نے قرطبہ کی آب و ہوا کے اثر کا مطالعہ انسان کے بالوں، بھیڑ کی 83