ابن رشد — Page 72
باب چهارم بحیثیت سائنس داں عظیم فلسفی ، عبقری سائنس داں اور دقیقه شناس و نکتہ داں مفکر تھا۔مشاہدہ نگاری کا یہ عالم تھا کہ جس چیز کو دیکھتا گہری نظر سے دیکھتا۔ہر مظہر قدرت میں خدا کی شان کا جلوہ تلاش کرتا اور کسی بات یا دلیل کو بلا حیل و حجت تسلیم نہ کرتا۔اس کا انداز فکر فلسفیانہ اور اسلوب محققانہ تھا۔مطالعہ کا رسیا تھا، قرطبہ کی شاہی لائبریری اس کی پسندیدہ جگہ تھی جہاں چار لاکھ کے قریب نایاب کتابوں کا علمی خزانہ موجود تھا۔کسی مسئلے کے معائب و محاسن فوراً جان جاتا۔ایک عبقری فلسفی ہونے کی وجہ سے اس نے ارسطو کے سائنسی نظریات کی گہرائی میں غوطہ زن ہو کر ان کو خوب سمجھا اور ان کی تشریح کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ، جس سے اس کی علمی فضیلت، مطالعے کی وسعت ، اور ژرف نگاہی روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے۔د و ارسطو کو مجسم دانش اور حکمت کا سر چشمہ سمجھتا تھا۔(کتاب القیاس) بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اس کی نظر میں سائنسی سچائی (scientific truth ) لوگوں کو الہامی مذہب سے زیادہ تعلیم دے سکتی ہے۔خاص طور پر کیتھولک چرچ نے یورپ میں یہ سنگین اعتراض بہت اچھالا تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ تجزیاتی طریقے (analytical method) کے ذریعے مذہب کے عقائد اور پیغام کو بہتر طریق سے سمجھنا چاہتا تھا۔ذوق تحقیق انسان کو لذت تشکیک سے آشنا کر دیتا ہے اس لئے تحقیق کے دوران اگر اس کی فکر رنگ تشکیک سے مزین ہوئی تو یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔اس کا مطمح نظر مذ ہب اور عقل (یعنی سائنس) کے ما بین تضاد اور تصادم کے بجائے ان کو ایک دوسرے کا مددگار ثابت کرنا تھا۔اس کے نزدیک عقل ایمان کی مخالف نہیں بلکہ تکمیل ایمان کا ذریعہ ہوتی ہے۔قرآن حکیم کی آیات پر عقل کے ذریعے غور وفکر کرنے سے انسان حقیقت کا ادراک کر سکتا ہے۔یہ ادراک حقیقتاً اصل ایمان ہے۔اس سے یہ مستنبط ہوا کہ معقل اور ایمان ایک دوسرے کے لیے ممد و معاون ہیں۔72