ابن رشد

by Other Authors

Page 87 of 161

ابن رشد — Page 87

یہ کہنے میں مبالغہ نہیں کہ یورپ میں احیائے ثانی اسلامی علوم کا مرہون منت ہے۔بیسویں صدی کے آخر میں لوگوں کو احساس ہوا کہ یورپ میں ہونے والے سیاسی انقلابات کے علاوہ سائنسی انقلاب کے بارے میں علم حاصل کریں۔یہ انقلاب دو سو سال یعنی 1500-1700ء کے عرصہ میں ظہور پذیر ہوا تھا۔عیسائیت کے آغاز کے بعد مغربی تہذیب کی تاریخ میں صحیح معنوں میں رخ بدلنے والا یہی انقلاب تھا۔اگر چہ مغربی تہذیب پر عبرانی اور یونانی تہذیب کا اثر بہت نمایاں تھا مگر اس سائنسی انقلاب سے جنم لینے والی سوسائٹی اس سوسائٹی سے بہت مختلف تھی جو اس سے پہلے تھی۔کو پر ٹیکس کیپلر ، گیلی لیو، ڈیکارٹ اور نیوٹن کے جلیل القدر سائنسی کارناموں نے ایک نئی علمی دنیا کو جنم دیا۔موجودہ زمانہ میں اس انقلاب کے آنے سے پہلے کے پس منظر کو جانے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں، یعنی یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قرون وسطی سے لے کر نشاۃ ثانیہ 1500- 1300ء ) تک کے سائنسی نظریات کی تاریخ کیا ہے؟ نشاۃ ثانیہ یورپ کی وہ ثقافتی تحریک ہے جس سے وہاں سائنسی انقلاب بر پا ہوا، اس کا آغاز اٹلی میں چودہویں صدی سے ہوا۔نشاۃ ثانیہ کی بنیاد اس وقت پڑی جب یورپ کے عالموں اور سائنس دانوں نے قدیم یونانی علوم کی تحصیل بڑے شدومد سے شروع کی۔اس تمام علمی خزانے تک جانے کے لئے کا مطالعہ لازمی تھا کیونکہ اس نے ہی تو ارسطو کے سائنسی نظریات اور خیالات کو صحیح معنوں میں بیان کر کے اس کی اہمیت لوگوں پر آشکارا کی تھی۔کی یونانی کتب کی شرحوں سے نشاۃ ثانیہ کے دیو قامت عالموں کو آئیڈیاز ملے تھے۔چودہویں صدی میں پیرس کے محققین نے ارسطو کے نظریہ حرکت ( Theoty of Motion) کو مسترد کیا تھا۔اس کی جگہ ایک نئے تصور جس کا نام اپنی ٹس (Impetus) تھا اور جس کا کسی پروجیکھا ئیل (Projectile) کے سفر کے دوران ہونا ضروری تھا، نے لے لی۔اس کے بعد سائنس داں تھیوری آف انرشیا ( Theory of Inertia ) پر ریسرچ کرنے لگے جو سترہویں صدی میں مکمل ہوئی۔پیرس کے مکتب فکر کے اس سائنسی کام کو اٹلی کی پیڈ وا یو نیورسٹی میں پندرہویں اور سولہویں صدی میں مزید ترقی ملی۔یہ یونیورسٹی میڈیکل ایجو کیشن اور ارسطو کے سائنسی نظریات کی وجہ سے بہت مشہور تھی۔خاص طور پر جس کی شہرت ارسطو کے شارح ہونے کی وجہ سے تھی، اس کے نظریات (Averroism) کا یہاں بہت اثر ونفوذ تھا جس کا پر تو اطالوی نشاۃ ثانیہ کی سائنس اور فلاسفی میں صاف صاف نظر آتا ہے۔پیڈوا کے محققین نے کی کتابوں اور سائنسی نظریات کو رہنما بنا کر سائنسی طریقہ (Scientific Method) کی نشو و نما میں اہم حصہ ادا کیا۔سائنسی طریقے کی بنیاد پانچ امور پر ہے: 1- کائنات میں کسی مظہر قدرت کا مطالعہ۔2۔اس مطالعے کی بنیاد پر مفروضے کی تیاری۔3۔مفروضے کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش گوئی۔4۔ان پیش گوئیوں کی تجربات کے ذریعے 87