ابن رشد — Page 86
ظاہر وباہر ہے۔ہم وقت کا تصور حرکت کے بغیر نہیں کر سکتے اگر چہ حرکت کا تصور وقت کے بغیر کر سکتے ہیں۔وقت کا ادراک خاص طور پر رفتار کی نسبت سے حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے اجزاء قبل اور بعد ہیں۔جب ہمیں اس لمحہ (Now) کا ادراک نہیں ہوتا تو ہمیں وقت کا بھی اور اک نہیں ہوتا۔یعنی وقت کے ادراک کا حرکت کی تقسیم ( قبل اور بعد ) سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔اس لئے ارسطو نے وقت کی تعریف نمبر آف موشن ( Number of Motion) کی ہے، قبل اور بعد کے تعلق ہے۔کے اس نظریے کی جھلک گیلی لیو اور نیوٹن کے زماں اور حرکت سے متعلق سائنسی نظریات میں دیکھی جاسکتی ہے۔(37) کا عقل کا نظریہ ( Theory of Intellect) یہ تھا کہ ہم اشیاء کے پیچھے پوشیدہ صورتوں کا عکس بنا کر سوچتے ہیں: "He believed that man thinks by abstracting the forms behind things and that human intellect is receptacle of these intelligible forms۔" آنکٹا مکین نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا: "Imagination is more important than knowledge۔" کی غلطی نے ارسطو کے افلاک کے اسٹیئر بینڈ ماڈل ( Sphere-based Model) کی تائید کی تھی برعکس بطلیموس کے ماڈل کے جس کا مرکز زمین تھی اور جو اس نے سائیکلک اور اوپی سائیکلک آرٹس ( & Cyclic Epicyclic Orbits) سے وضع کیا تھا۔ارسطو نے کا ؤنٹر ایکٹنگ اسفیرز ( Counter Acting Spheres) کا ذکر کیا تھا جس کا عربی میں ترجمہ لولا بیا کیا گیا تھا۔نے اس کے معنی کمانی دار، اسپائرل (spiral ) کے کئے جس کی وجہ سے اس سے سنگین غلطی سرزد ہوئی کیونکہ کشش ثقل والے اجرام فلکی یقیناً کمانی دار نہیں ہوتے۔www۔2nca۔org/he/heta01۔501p63۔pd) اور سائنٹیفک ریوولیوشن فلسفہ چونکہ تجربہ و مشاہدہ کی صداقت پر مبنی ہوتا ہے اس لئے یہ حقیقت جاننے کا سب سے معتبر ذریعہ ہے۔اسلامی دنیا میں علما و فلاسفہ نے علم و حکمت کی بنیادیں تجربہ و مشاہدہ پر رکھی تھیں۔یورپ میں احیاء علوم یا نشاۃ ثانیہ کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلمان مصنفین کی تصانیف کے ذریعے ان پر تجربہ و مشاہدہ کی اہمیت آشکارا ہوئی۔اس لئے 86