ابن رشد

by Other Authors

Page 85 of 161

ابن رشد — Page 85

(یعنی این رشد تخلیق کے یک بارگی عمل پر یقین رکھنے کے بجائے تخلیق کے مسلسل عمل پر یقین رکھتا تھا جس کی تجدید تغیر پذیر کائنات میں ہرلمحہ ہورہی ہے۔یہ تخلیق ہر دفعہ ہی صورت میں انہیں اشیاء سے ہوتی ہے جو اس کا ئنات میں پہلے سے موجود ہیں۔) "For Averroes the world, though eternal, is subject to an eternal Mover constantly producing it and is eternal۔This Mover can be realized by observation of the eternal celestial bodies whose perfected existence is conditioned by their movement۔" (ترجمہ : کے نزدیک اگر چہ یہ کائنات ازل سے ہے، لیکن یہ ایک محرک (خدا) کے ماتحت ہے جو اس کی تخلیق مسلسل کرتا ہے، نیز وہ کائنات کی طرح ازل سے ہے۔اس محرک (خدا) کا احساس ہمیں ازل سے قائم اجرام فلکی کے مشاہدے سے ہو سکتا ہے جن کا کامل وجود ان کی گردش پر مشروط ہے۔) "Thereby amy be distinguished two forms of eternity, that with cause and that without cause۔Only the Prime Mover is eternal and without cause۔All the rest of the universe has a cause, or, as we should say nowadays, is 'subject to evolution'۔He pictured the universe as finite in space۔" ( ترجمہ ازل دو قسم کا ہے، ایک تو وہ جس کی علت ہے اور دوسرے وہ جو بغیر علت کے ہے۔صرف محرک اول ( خدا ) از لی اور علت کے بغیر ہے۔باقی تمام کائنات کی علت ہے، یا پھر جیسا آجکل کہا جاتا ہے کہ کائنات ارتقا پذیر ہے۔کے تصور میں کائنات خلاء کے اندر محدود تھی۔) (36) وقت کیا ہے؟ زماں یا وقت (Time) کے متعلق اس کا نظریہ تھا کہ وقت اور حرکت آپس میں اس قدر پیوست ہیں کہ ہم وقت کے تصور کے بغیر حرکت کا تصور نہیں کر سکتے۔خاص طور پر انسانی حواس سے اگر حرکت کا اور اک نہیں کیا جاسکتا تو وقت کا ادراک بھی نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ ارسطو نے سارڈینیا کے سلیپرز (Sleepers of Sardinia) کا ذکر کیا یا قرآن مجید میں اصحاب کہف کا ذکر کیا گیا ہے۔زماں حرکت کے ہو بہو نہیں ہے، یہ بات کے نزدیک 85