مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 714
ہی نہیں سکتا۔دعا ہر مصیبت کی سپر ہوتی ہے۔اور دُعا خدا تعالیٰ کی تمام تقدیروں کو جو خاص تقدیروں کو بھی تڑوا دیتی ہے۔اگر ہم دھانہ کریں تو بقول کشف حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ ہم کوں کھانے والی بھیڑوں سے بھی زیادہ خدا کی نظر سے ناپاک اور ذلیل ہوں گے۔یہ تو ہے دعا اور اس میں داخل ہے ہر قسم کی دُعا۔فجر سے پہلے کی دعا گریہ وزاری کی دعا۔اضطراب اور تڑپ کی اور جوش کی اور اخلاص کی دعا۔خاص موقع کی دعا۔دکھے ہوئے دل کی۔عام مجلسوں کی دعا۔(عبادت) کی دُعا۔خاص توجہ والی دھا۔اور ہے خاص توجہ کی دعا۔دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعا۔اور صرف بہوں سے نکلی ہوئی دعا۔بار بار کی دعا۔دل میں صرف ایک سیکنڈ کے لئے کی ہوئی دکھا۔کبھی سے کبھی پر بھی دعا جیسے کوئی ان پڑھے پنجابی شخص (عبادت) میں کوئی عربی دُعا مانگا کرے۔یا بے الفاظ کی دُعا جیسے کوئی خدا کے آگے ہاتھ جوڑ کر یا حاجزی کے ساتھ صرف سجدہ ہی میں پڑجائے بغیر اس کے کہ کوئی لفظ بھی منہ سے نکالے کے مرض کا ہر رنگ میں وکل ہے۔یہ ضروری نہیں کہ مضطر کی دعا ہی دُعا ہے۔بلکہ ہمارا تجربہ ہے کہ محض ادھر منہ سے بات نکلی امداد ضرور بات قبول۔یہ نہیں کہ ہو۔بہت الدعایا بہت الذکر میں داخل ہوں۔اور رو رو کر سخت تشریع اور خشوع و خضوع سے دعا مانگیں تو اسے دعا سمجھیں بلکہ مثال کے طور پر حسب ذیل بھی دعائے مستجاب ہے جس کے پیچھے ان میں سے کوئی بات بھی نہ تھی۔چند سال کا ذکر ہے کہ ایک دن رات کو بعد مغرب کھانا کھا کہ ہم سب اماں جان کے دستر خوان پر ہی بیٹھے تھے۔کہ کسی نے کہا اس وقت گنے کھانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔۔خدا کھلادے (یعنی وہ گنا جسے پونڈا کہتے ہیں اور پنجابی میں ہونا) حضرت اماں جان نے ایک آدمی بازار دوڑا دیا۔وہ جواب لایا بازار میں کوئی پونڈا نہیں ملا۔فارم کی طرف کوئی آدمی بھیجا گیا۔اُدھر سے بھی جواب صاف آیا کہ گئے ہیں پونڈے نہیں ہیں۔خیر جب دونوں تیر خالی گئے تو صبر سے بیٹھ گئے۔ابھی باتیں کر ہی رہے تھے اور پانچ منٹ فارم والے پیغام یہ کو آئے ہوئے نہیں عاجزی ہو رہی