مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 685 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 685

جہنم سزا ہے یا علاج ؟ سوال : سزا اس لئے ہوتی ہے کہ یا تو مجرم پھر وہ گناہ نہ کر سکے۔مثلا قتل کے بدار قتال یا اس لئے کہ دوسروں کو عبرت ہو۔اگلا جہان نہ دار العمل ہے۔نہ وہاں عبرت کا سوال ہے۔پھر جہنم کیوں بنایا گیا ؟ جواب ہر اول تو اس کا جواب یہ ہے کہ جہنم شفاخانہ یا علاج گھر ہے۔پس دوسروں کی عبرت کا سوال تو نہیں ہے۔مگرہ آئندہ گناہ سے رکھنے کا ضرور سوال ہے۔کیونکہ جو لوگ وہاں جائیں گے ان کی روحیں بیمار ہوں گی۔اور اس قابل نہیں ہوں گی کہ وہ نعمائے جنت یا وصل الہی کی لذت اٹھا سکیں۔جس طرح یہاں بیمار کو ٹھنڈا پانی بُرا لگتا ہے۔مزیدار پھل نا موافق آتے ہیں میٹھی چیز بوجہ مرض کے کڑوی لگتی ہے۔جوان حسین تندرست بیوی بسبب نامردی کے بلائے جان اور خار پہلو ہوتی ہے۔وغیرہ وغیرہ میں ضروری تھا کہ انسان جو یہاں سے ایسی بہت سی روحانی اور اخلاقی بیماریاں لے کر اپنے ساتھ اگلے جہان میں گیا ہے۔اسے بھی ایک شفا خانہ میں داخل کیا جائے۔جہاں کے علاج سے اس کی بد اخلاقیاں اور خدا ناشناسی کی بیماریاں دور ہوں۔پھر اس کے بعد شفا پا کہ وہ جنت کا لطف اٹھا سکے۔فرض کہ دایک عادی چور، خائن - تارک الصلوۃ آدمی توراً بغیر ان امراض کا علاج کئے جنت میں بھیج دیا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا ای غیر مضرت یافتہ شخص وہاں لوگوں کی جو چیز پسند آئے گی چرالے گا۔ان کی بیویوں پر نظر یک ڈالے گا یا ان کو چھیننے کی کوشش کرے گا۔خدا سے دعا نہ مانگے گا کیونکہ نماز دعا ہی ہے) پس وہ جنت والوں کے لئے سخت اینڈا اور دکھ کا موجب ہوگا ، اس لئے اسے ایک عرصہ دوزخ میں رہنا ضروری ہے کہ وہ یہ سب بُرائیاں اور بد اخلاقی حین کی اپنی روح کو عادت ڈال کر وہ