مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 682 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 682

عید الاضحی کی قربانیوں کے گوشت کا مصرف ہمارے ملک کا رواج اب اس گوشت کے متعلق یہ ہوتا جاتا ہے کہ کچھ آپ پکایا۔یہ اور اگر ہو سکا تو کچھ ایک دو دن کے لئے رکھ لیا۔باقی میں سے عمدہ حصہ دوستوں کے ہاں بھیج دیا اور دوست بھی وہ جین سے کام پڑھتا رہتا ہے۔مثلا کسی ڈاکٹر سے علاج کرایا تھا تو اس کے ہاں ایک ران سی دی کسی وکیل سے مشورہ لیا تھا تو کچھ اس کے ہاں بھیج دیا۔کسی کے ہاں سے اُن کے ہاں گوشت آیا تھا تو انہوں نے ان کے ہاں بھیج دیا۔پھر کچھ تھوڑا سا اور ناقص حصہ غرباء کو بھی دے دیا اور غربا بھی وہ جو اپنے کام آتے رہے ہوں اور ان لوگوں کے کے ہاں تو ضرور گوشت بھیجا جاتا ہے جن کے ہاں کئی کئی بکرے خود کٹ چکے ہوں اور انہیں گوشت کی ہر گنہ کوئی ضرورت نہ ہو۔یعنی نیوتہ آیا۔بھاجی کے طور پر وہ بھی عوض معاوضہ ہوتا ہے۔میرے نزدیک شرح نے یہ سب صورتیں نا جائز رکھی ہیں حرام نہیں کہیں لیکن جو الفاظ قرآن مجید نے قربانیوں کے گوشت کے متعلق فرمائے ہیں۔یہ باتیں ان کی روح اور مقصد سے دور سے جاتی ہیں۔اور ایک قسم کی رسم بن گئی ہیں یا منیتی جاتی ہیں۔کلام الہلی نے دو آیتوں میں اس گوشت کا مصرف یوں بتایا ہے فَكُلُوا مِنْهَا وَالعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِير (الج : ٢٩) یعنی ده گوشت خود بھی کھاؤ اور بھو کے فقیروں کو کھلاؤ۔(۲۹: -٢ تَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَد (الح (٣٤)