مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 676 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 676

460 لگا سکے۔نہ خدا سے ڈر سے۔نہ کوئی اجر حاصل کر سکے۔اور شاید سوائے خاص شکر گزار لوگوں کے کوئی نجات بھی نہ پاسکے۔- بچپن کی بیماریاں اور تکالیف بھی قیامت کے دن حساب میں آئیں گی۔اور ان کے می نمبر ملیں گے میں طرح بیڑے انسانوں کی بیماریوں کا اجر ملے گا۔پھر کس بات پر اعتراض ؟ بیماریوں سے بعض بچے اندھے لولے لنگڑے یا معذور ہو جاتے ہیں ایسی بیماریاں اور ایسے مستقل نقائص آئندہ کے لئے ایسے بچوں کی زندگی کو سنوار دیتے ہیں۔ورنہ بہت سے ان میں سے شیطان کو مات کر دیتے۔لیکن یہ معذوریاں ان کی طبیعت کو ذہین صابر اور نیک بنا دیتی ہیں۔اگر بچہ بیمار نہ ہو۔نہ اسے تکالیف پہنچتی رہیں۔خواہ معذور نہ بھی ہو۔تو بھی بڑے ہو کر ان مصائب کی وجہ سے تعمیل جفا کشی تلخی کی یہ داشت اور نیک اخلاق اس میں پیدا ہو جاتے ہیں۔و ممکن ہے کہ ایک ماں باپ کے دو بچوں میں سے ایک مرجائے اور دوسرا بڑھی عمر پائے لیکن اگلے جہاں میں پہلا جنتی ہو اور دوسرا و نرخی پس کون فائدہ ہیں رہا ہے یہی تو وہ مخلوق ہے جس کی بابت روایتیں آئی ہیں کہ وہ جنت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔انسان کے لئے تکلیف کا وجود اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کی وجہ سے راحت کا مزا اس کی قدر اور شکر پیدا ہوتے ہی اس دنیا میں جو شخص کبھی دیکھی نہ ہو وہ یقیناً فرعون بن جاتا ہے جو کھانا بھی ہے اور غراتا بھی ہے۔11- بچہ چونکہ سب سے زیادہ عزیز چیز ہے۔اس لئے اس پر بھی ضرور آفت آنی چاہیئے موجب آیت ولنبلونکم کے ( محمد ،۳۲) ۱۲۔کیا بچے ہمیشہ تندرست رہا کریں ؟ پھر شاید یہ کہا جائے۔کہ کسی جوان کی موت نہ ہو۔اور آخر میں یہ کہ کوئی انسان بھی نہ مرے یہ سب مغویات ہیں۔اور کسی اور عالم کا افسانہ