مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 667 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 667

دنیا میں تکالیف اور مصائب کیوں آتے ہیں سوال : ایک دو سال کا نتھا بچہ بخار اور درد قولیج میں مبتلا تھا۔اس کی تکلیف اور اضطراب کو سخت سے سخت دل انسان بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔رفع تکلیف کے لئے کبھی وہ اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتا اور کبھی ڈاکٹر کے سامنے کروی سیلی دوا کے لئے منہ کھولتا۔اسی تکلیف میں ایک دن رات رہ کر وہ مرگیا۔سوال یہ ہے کہ رب رحیم وکریم جو رافت اور شفقت کا شیع ہے۔چھوٹے اور معصوم بچوں پر مصائب اور تکالیف کیوں وارد کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ ظلام للعبد نہیں ہے۔اگر ماں باپ کا شافع بنتا ہے تو معصوم بچہ کو یہ ستر کیوں ملی ؟ اور وہ دوسروں کے فائدہ کے لئے خود کیوں زیر بار آئے ہے الا تزر وازرة وزر أخرى (انجم (۳۹) ترجمہ دار جو یہ ہے کہا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی جواب ہو یہ سوال بچوں کی تکلیف کا بہت لمبا جواب چاہتا ہے اور خدا تعالے کی عمیق در عمیق حکمتوں کا بیان اس میں کرنا پڑتا ہے۔اس کے لئے مختلف زمانوں کے لوگ بھی اگر میرا یہ روشنی ڈالتے رہیں تو بھی پورا حل نہیں ہوسکتا۔مگر اللہ تعالیٰ کے صفات و افعال پر نظر کر کے اور اس کے کام کو دیکھ کر ہم محمداً بعض باتیں بتا سکتے ہیں۔لیکن زیادہ مفصل طور سے اس کے لئے زبانی گفتگو شاید زیادہ بہتر ہوگی۔پھر بھی بہت سی باتیں حجاب میں رہ جائیں گی۔اور اگر واقعات کی تفصیل میں جانے لگیں تو شائد هم نوع بھی کافی نہ ہو۔اور ہر بات کو دلائل سے میرین کرنے لگیں۔تو کاغذ دماغ اور اخبار کی گنجائش سب چکر میں آجائیں اس لئے نہایت مختصر طور پر اکثر دلائل کو چھوڑ کر ایک سرسری بیان لکھتا ہوں۔