مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 562
841 کامیاب ہے اور تمہارے نامہ اعمال میں وہ ثواب لکھا جائے گا جو بڑے سے بڑے مجاہدین کو ملتا ہے۔بیوی کا پہلا فرض ہے کہ جب وہ خاوند کے گھر جائے تو اس کی میمنی پہچاننے کی کوشش کرے۔اور اس کی طبیعت اور مزاج کا علم حاصل کرے۔پھر اگلا مرحلہ یعنی خاوند کو راضی رکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔مگر بعیض باتیں ایسی ہیں جو عوا خاوند کی تکلیف کا باعث ہوتی ہیں۔اُن سے خاص کہ احترانہ چاہیے اور یہیں اُن کا ذکرہ کر دیتا ہوں۔اُن میں سے ایک بات یہ ہے کہ بیوی اکثر اوقات خرچ کے لئے تقاضا کرتی ہے۔خرچ حکمت سے لینا چاہیئے۔نہ کہ تقاضہ اور تنگ کر کے اور جب خاوند کے پاس روپیہ موجود نہ ہو اس وقت مطالبہ کرنا اس کو تکلیف دیا ہے۔ایک بات یہ ہے کہ بیوی اکثر اوقات بد مزاج یا خاموش رہے اور جب خاوند گھر میں آئے تو اُسے سچے دل سے خوش آمدید نہ کرے یا اس کی بات کاٹے یا ایسے الفاظ لوگوں کے سامنے رکہے جس میں خاوند کی کسی قسم کی تحقیر ہو یا بہت نخرے کرے اور ناز برداری کی خواہش رکھے۔اس کی خیر خواہی کی بات کو نہ مانے۔مثلاً وہ کہے کہ میرے ساتھ کھانا کھاؤ تو جواب کہ مجھے بھوک نہیں۔وہ کوئی دوا تجویز کرے تو کہے یہ مجھے مفید نہیں ہوگی میں اسے استعمال نہیں کروں گی۔وہ کوئی کپڑا یا تحفہ لا کہ دے تو اُسے حقارت سے دیکھے۔عرض کیسی جیسوں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن میں بیبیاں فیل ہو جاتی ہیں اور اپنی زندگی کو اغ کر لیتی ہیں۔بحث کرنا اور مخالف جواب دینا یہ خاوند کے دل سے بیوی کی محبت کو اس طرح اڑا دیتا ہے جس طرح ریتہ اہل کے لکھے کو اور یہ