مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 463 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 463

کیا۔یا رسول اللہ میں نے ایک گناہ کیا ہے۔یعنی میں ایک قبیلہ کا اونٹ چرا لایا ہوں۔آپ نے اس قبیلہ کے لوگوں کو بلایا اور تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا ایک اونٹ گم ہے۔مجرم بھی اپنے قصور کا اقراری تھا۔اس لئے شریعت کے حکم کے مطابق آپ نے چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔جب اس کا ہاتھ کٹ کہ زمین پر گیا تو چور نے اس ہاتھ کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ اسے ہاتھ تو نے تو چاہا تھا کہ میرے تمام جسم کو دوزخ میں ڈال دے۔مگر خدا کا ہزار ہزارٹ کر ہے جس نے مجھے دنیا میں ہی سزا دے کر آخرت کے عذاب سے بچایا۔ر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر کسی سے گناہ با قصور ہو جاتا۔تو وہ قور أحاضر ہو کہ آپ سے بیان کر دیتا تھا۔اور ہرگز نہ چھپاتا تھا۔اور شریعت کی سزا بڑی خوشی سے برداشت کرتا تھا۔اس لئے تاکہ آخرت میں نجات ہو۔اور خدا تعالیٰ ناراض در ہے۔اس طرح آپ کے زمانہ میں جب ایسے لوگ اپنے گناہوں کا اقرار آپ کی مجلیس میں آکر کرتے تھے۔تو اور لوگ ان کو حقیر نہ سمجھتے تھے۔نہ ان کو طعنے دیتے تھے منہ باہر آ کہ ان کا ذکر ذلت کے طور پر کرتے تھے) دانتوں کی صفائی ایک دن کا ذکر ہے۔کہ کئی صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا۔کہ یہ کیا وجہ ہے کہ مجھے تمہارے دانت زرد اور میلے نظر آتے ہیں۔تم لوگ مسواک کیا کرو۔اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میری اُمت کو زیادہ تکلیف ہوگی۔تو میں ان پر مسواک کرنا بھی اسی طرح فرض کر دیتا۔جس طرح وضو کہ تا قرض ہے۔