مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 400
۳۹۹ ہے یہ حض آپ کی زبردستی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے پاس جو قرآن آیات کے نمبر والا ہے اُسے دیکھ لیں۔اگر شک ہو تو فاتحہ کی سات آیات بغیر اسم اللہ کے گن کر دکھا دیں۔کیونکہ فاتحہ کی بغیر بسم اللہ کے صرف چھ آیتیں رہ جاتی ہیں۔خواہ باقی قرآنی سورتوں میں بسم اللہ محسوب ہو یا نہ ہو۔مگر فاتحہ بغیر اہم اللہ کے کامل ہرگز نہیں ہوسکتی۔کیونکہ بغیر اس کے فاتحہ کی سات آیات کی گنتی پوری نہیں ہوتی۔(۷) پھر ایک اعتراض یہ ہے کہ جب مقطعات بے معنی الفاظ ہیں۔تو پھر آپ نے علیم اللہ کو مقطعہ کیوں کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ واقعی در اصل تو بسم اللہ منقطعہ نہیں ہے۔بلکہ فاتحہ کی ایک آیت اور فاتحہ کا خلاصہ ہے۔مگر صرف سمجھانے کی خاطر اسے وہاں منقطعہ کہہ دیا گیا ہے۔کیونکہ قرآنی سورتوں میں یا تو مقطعات کی تفسیر ہے باسیم اللہ کی۔اس لئے اسے بھی ایک منقطعہ یا اُم المقطعات کا نام دے دیا گیا ہے۔ورنہ دراصل اس میں مقطعات والی خاصیتیں نہیں ہیں۔کیونکہ وہ کسی آیت کا اختصار نہیں ہے بلکہ خود ایک پوری با معنی آیت ہے۔ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ہر سورۃ میں اس کی تفسیر کسی نہ کسی رنگ میں موجود پائی جاتی ہے۔ایک نیا قرینہ (^) ایک اعتراض یہ ہے کہ مقطعات فاتحہ کی آیات اور الفاظ کا اختصار سمجھنا آپ نے کسی زبر دست اور مضبوط دلیل سے ثابت نہیں کیا۔بعض قرائن پیش کئے ہیں جو خود کچھ زیر دست نہیں ہیں۔اس کے جواب میں عرض ہے کہ جو معانی آپ ان مقطعات کے پہلے مانا کر تے تھے وہ کن دلائل اور پختہ حسابی تشریحات پر مبنی ہیں ؟ کہ ان کو ماننے کے لئے