مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 401
۴۰۰ تو آپ تیار ہیں۔مگر ان کے ماننے کے لئے آپ کو ایک اور ایک در کی طرح دلائل اور براہین درکار ہیں۔مہربان من ! خدا تعالی رسالت، قیامت اور سب چیزیں جو ایمانیات میں داخل میں ان کا انحصار بھی بعض قرائن پر ہوتا ہے نہ کہ رویت پرہ۔پھر یہاں رویت والی دلیلیں ہم کس طرح دکھا سکتے ہیں : کلام اہلی تو رو حانیات میں داخل ہے اور اس کے تمام حقائق و معارف حسابی میزان پر نہیں بلکہ روحانی میزان پر تو نے جاتے ہیں۔اور قرائن انشراح صدر اور ایمانی تشریحات پر ان کا مدار ہوتا ہے۔پس ایسا مطالبہ غلط ہے۔لیکن یہ صحیح ہے کہ ہمارے قرائن لغو اور کمزور نہیں ہیں۔مثلاً سبعا من المثاني والا قرینہ کیا کوئی کمزور دلیل ہے ؟ بلکہ تنو دلائل پر بھاری ہے۔اور بغیر ماری توجہہ کے اور سب توجہات مقطعات کی ان کو کسی نظام کے ماتحت نہیں لاتیں۔پس یہ بھی ایک عمدہ دلیل ہماری صحت خیال کی ہے۔نیز بعض مقطعات کا صراحتاً فاتحہ کی بعض آیات کا اختصار ہونا اور نظر آنا نہایت عمدہ دلیل ہے۔اس بات پر کہ باقی مقطعات بھی فاتحہ ہی کی آیات ہیں پھر گل حروف مقطعات کا فاتحہ میں موجود پایا جانا کیسی عجیب دلیل ہے جس کو دو کرنا آسان نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں ایک نئی بات یہ معلوم ہوئی کہ قرآن مجید میں سات یا سات سے کم آیتوں والی بارہ سورتیں ہیں۔مگر عجیب تر بات یہ ہے کہ کسی ایک سات یا اس سے کم آیتوں والی قرآنی سورت میں بھی تمام حروف مقطعات فاتحہ کی طرح موجود نہیں ہیں۔مشکلی سورہ ماعون میں حرف کی موجود نہیں۔سورہ کافرون میں تے ہیں۔فتق - ما موجود نہیں ہیں۔اور سورۃ ان اکس میں جے اور ط موجود نہیں ہیں۔گویا حکمت الہی ارادہ ۱۳ حروف مقطعات صرف فاتحہ میں ہی رکھتے ہیں۔باقی سات یا کم آیتوں والی قرآنی سورتوں میں جو ۱۲ عدد سورتیں ہیں کسی ایک میں بھی پورے حروف مقطعات نہیں پائے جاتے ہیں یہ ایک نیا قریہ قائم ہو گیا کہ صرف فاتحہ میں تمام حروف مقطعات موجود ہیں اور اس کے برابر کی کسی اور سورۃ میں یہ موجود نہیں ہیں۔اور یہ بارہ سورتیں حسب ذیل ہیں۔