مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 322
سے ہی ثابت ہو جائے گا۔تا۔تیسرے یہ کہ حضرت ایوب کے ذمہ قرآن مجید کوئی ایسی بات نہیں لگا تا کہ ان کو ان کی بیوی کی طرف سے کبھی کوئی بنی ہوئی ہو۔ہے۔نہ یہ بیان کرتا ہے کہ انہوں نے سو ٹکٹڑیاں مارنے کی قسم کھائی تھی۔یہ صرف یاروں کی قصہ خوانی ہے یا یہودیوں کی لغویات جن کو سن کر مفسرین اسلامی مسحور ہو گئے اور گویہ سمجھ کر فوراً رونق تفسیر کے لئے ان کو داخل کتب کم لبلبہ قرآن مجید نے تو یہ اصول مقر فرمایا ہے۔الطيبات للطيبيين - والطيبون للطلبات۔پس تمام پیغمبروں حتی کہ لوڈ اور نوح کی کافر اور مخالف بیبیاں بھی خواہ وہ سلسلہ حقہ کی کتنی ہی مخالف ہوں مگر ید جلین اور یہ کار نہیں ہو سکتیں چہ جائیکہ ایوہے کی۔ایوب کی بیماری اب میں اصل قصہ کو جس طرح کہ میں ایسے قرآنی الفاظ سے سمجھا ہوں اور دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔وبالله التوفيق۔یہ صاف ظاہر ہے کہ حضرت ایوب ایک دفعہ بیمار ضرور ہوئے تھے اور بیماری بھی بہت تکلیف دہ تھی۔غالباً پھوڑے پھنسیاں یا اقلبا سخت قسم کی خارش ہوگی ہو بہت ایدا دیتی ہے اور کچھ مدت تک برابر چلتی ہے اور درمیان میں بعض نہایت سخت تکلیف کے دن بھی آتے ہیں۔جس میں بے قراری ، لیے تو ابی ، درد وغیرہ سب عوارض موجود ہو جاتے ہیں۔اور مشہور بھی یہی ہے کہ ان کو کوئی جلدی بیماری تھی اور تائید اس بات سے ہوتی ہے که خدا تعالٰی نے بھی بطور علاج ان کو ایک چشمہ میں نہانے اور اس کا پانی پینے کا حکم دیا تھا اس سے واضح ہے کہ جلدی بیماری ہی تھی اور تورات میں بھی لکھا ہے کہ اُسے جلتے ہوئے چوڑے ہوئے اور وہ ایک ٹھیکرا نے کہا اپنے تئیں کھلانے لگا۔اور راکھ پر بیٹھ گیا۔