مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 245 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 245

۲۴۴ (۲۹) جن اشخاص کو دنیا میں اپنے قصوروں اور حدود کی سزا مل چکی تھی ان کے ساتھ تو خصوصاً وہاں نرمی اور شفقت کا سلوک ہو رہا تھا۔چنانچہ ایک شخص سے دنیا میں ایک برا کام سرزد ہو گیا تھا۔وہ خود گیا اور حاکم وقت سے عرض کیا حضور امجھ سے یہ گناہ سرزد ہو گیا ہے، میں نے تو بہ کی ہے، تم مجھے دنیا میں سزا د سے لو میں اپنے رب کے آگے رد سیاہ ہونے سے دنیا کی تکلیف برداشت کر لینا بہتر سمجھتا ہوں۔۔چنانچہ اسے سنگار کر دیا گیا اور جو حشر میں لایا گیا تو اس کو ان خوش کن الفاظ سے مخاطب کیا گیا " اے میرے بندے ! ہمیں تیری اس توبہ کی اس قدر قدر و منزلت ہے کہ اگر وہ ایک پورے شہر کے گنہگاروں پر تقسیم کی جاتی تو ہم ان سب کو بخش دیتے۔“ (۲۷) ایک اور شخص کو دیکھا جس نے اپنے زمانہ حکومت میں رعایا پر بہت ظلم کئے تھے۔وہ سب مظلوم اس سے بدلہ لینے کے لئے وہاں حاضر تھے۔مگر جب یہ سنایا گیا کہ اُس شخص نے آخری عمر میں اپنے سب مظالم سے توبتہ النصوح کر لی تھی اور مدینہ طیبہ ہجرت کر کے چلا گیا تھا اور وہیں مرا تھا تو اس اعلان سے یکدم ان تمام لوگوں پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ سب ہاتھ اٹھا کر کہنے لگے ہم نے اس شخص کے سب قصور معاف کئے، خدا بھی اسے بخشے۔چنانچہ دہ خوش خوش ہنستا ہوا وہاں سے جنت کی طرف رخصت ہوا۔(۲۸) اس سے بڑھ کر یہ کہ کروڑوں انسانوں کے حقوق العباد کا بدلہ خدا تعالیٰ نے تحقین کو اپنے پاس سے بڑھ چڑھ کر ادا کر دیا اور ان مظلوموں نے نہایت خوشی سے اپنے دعوؤں اور حقوق سے دستبرداری داخل کر دی اور ان کے گناہ بخش دیئے گئے۔نالائق اولاد جن پر ان کے ماں باپ بہت راضی اور خوش تھے وہاں محض اس