مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 222
۲۲۱ جاتی ہیں تب پتہ لگتا ہے ہم پر کیا کیا احسان خدا کی طرف سے ہو رہے تھے۔لڑائی سے پہلے رگ در آنه سیر دودھ اور اڑھائی رو پہ من گندم پر غراتے تھے۔اور اس نرخ کو ایک صیبت سمجھتے تھے اب جبکہ آٹھ آنہ سیر دودھ اور دس روپیہ من گندم ہو گئی۔تو پھر وہ آرام یاد کر کر کے روتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک بجلی کا پنکھا چھت میں لگا ہوا ہے۔سات سال وہ چلتا رہا۔اور میں شکر کی توفیق نہ ملی۔ایک دن سخت گرمی کے دنوں میں وہ بند ہو گیا۔بیس پھر کیا تھا یوں معلوم ہوتا تھا کہ سات سال کی جنت کے بعد ہم آج جہنم کی پاکشتی چکھ رہے ہیں۔یہی حال اور نعمتوں کا ہے نعمائے الہی شکر کے لئے انسان سب سے پہلے ان فصلوں کو دیکھے جو اس کی روح کے متعلق ہیں۔جن میں ایمان اخلاق اور خوشی وغیرہ جذبات داخل ہیں پھر جسم کا نمبر ہے۔جس میں ایس کے حواس دماغی قوئے۔صحت۔رجولیت اور تمام اعضا کی درستگی داخل ہیں اس کے بعد وہ چیزیں جو مدار زندگی میں مثلاً سورج ہوا پانی خوراکیں وغیرہ۔پھر وہ جو یم کی زینت ہیں۔اس کے بعد حسب و نسب مال تعلیم زمانه، استاد دوست اولاد خدمتگار مکان - ساز و سامان اس زمانہ کا امن۔اور نئی ایجادیں مثلاً ریل، موٹر کار، ریڈیو۔پریس وغیرہ وغیرہ پھر طرح طرح کے علاج اور دوائیں۔ملازمتیں۔یہاں تک کہ آج کل ہم ایک پیسے کی برف سے وہ راحت حاصل کر لیتے ہیں۔جس سے شہنشاہ اکبر با وجود اتنی بڑی سلطنت کے مردم تھا۔علم کی وہ افراط کہ انشا کبیر اور مہنر کی وہ فرامانی که سبحان اللہ پھر ہر چیز کس قدر سمتی کہ اذا لجنة از لِعَت کا نظارہ سامنے آجاتا ہے۔مذہب کے متعلق وہ آسانیاں کہ ہم نے نبی کا زمانہ پایا اور اس کے خلفاء کو دیکھا۔زندہ خدا کا زندہ کلام سنا۔اس کے نشانات ملاحظہ کئے اور ہدایت کے چمکتے ہوئے سورج کو گویا اپنی گود میں لے لیا۔آج کل