مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 221
۲۲۰ خدا کی نعمتوں کا دوسروں کے سامنے ذکر کرتے رہنا بھی ان کا شکی ہے۔اور ان نعتوں کا جائز استعمال بھی ان کا شکر ہے اور ان میں دوسرے لوگوں کو شریک کرنا بھی ان کا شکر ہے۔اور ان کی وجہ سے اپنی عبادات میں ترقی کرنا سبھی ان کا شکر ہے۔کوثر انا اعطينكَ الكَوثَر میں کوثر کے معنی بکثرت اور لا انتہا نعمتوں کے بھی نہیں۔اور مر متنفس نعمتوں کی کثرت سے لدا ہوا۔اور الہی انعامات سے دیا ہوا ہے جس کے پاس کم سے کم نعمتیں ہیں۔اس پر بھی اس قدر فصلوں کی بھرمار ہے کہ حد و شمار نہیں اور منعم بھی تخیل اور کینوس نہیں۔وہ ہم سے کوئی بڑی قیمت بھی نہیں ما لکھنا۔صرف شکر اور قدردانی کا طالب ہے۔وہ بھی ہمارے ہی فائدہ کے لئے۔کیونکہ شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے اور ان میں ترقی کرتا ہے۔دینے والے کی طرف سے کمی نہیں۔جو کچھ کسر ہے وہ لینے والوں کی طرف سے ہے۔اور اگر کوئی شخص کسی نعمت سے محروم رکھا گیا ہے تو اس لئے نہیں کہ منعم کے خزانے خالی ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ نعمت اس شخص کے لئے مضر اور نقصان دہ ہے۔اور اس کا نہ ملتا ہی اس کے لئے احسان اور نعمت ہے۔ولو بَسَطَ الله الرزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ (الشوری (۲۰) ترجمہ: اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کو بہت وسیع کر دیتا تو وہ ملک میں سرکشی کرنے لگ جاتے۔کسی چیز کو نعمت سمجھ کر شکر کرنے میں بعض وفعہ یہ وقت ہوتی ہے کہ اس کا نعمت ہوتا سمجھ میں نہیں آتا۔اس لئے ایک اور طریقہ بھی اس کے لئے اختیار کرنا پڑتا ہے۔وہ یہ ہے کہ اگر فلاں چیز مجھ سے چھین لی جائے تو کیا نتیجہ ہو یا اس وقت پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس چیز کا فائدہ کیا ہے۔اکثر نعمتوں کے فائدے نہیں نہیں معلوم ہوتے پھر جب وہ چھن