مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 153 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 153

۱۵۲ دل بھی پھیلا اس جذبہ سے کسی طرح خالی رہ سکتا ہے۔آپ نے اپنے مرشد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے مسکن قادیان سے اپنی محبت کا اظہار متعد د منظومات میں کیا ہے۔قادیان سے جدائی کا نقشہ اور فراق کی اذیتوں کا حال در فراق قادیان ، والی تنظیم میں بڑے ہی درد انگیز طریقے سے کیا ہے۔اسی قبیل کی ایک دوسری نظم قادیان دارالامان ہے۔قصہ ہجر ایک مہجور کی زبان سے ، ہم قادیان سے بول رہے ہیں ، ہم ڈلہوزی سے بول رہے ہیں۔یہ تینوں نظموں میں قادیان سے دلی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔- حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے تکمیل اشاعت دین، احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جس جماعت کو قائم فرمایا اس کے افراد مالی ، جانی ، عالی و قالی تعلیمی و تربیتی جمیله اقسام کی قربانیاں دے رہے ہیں اور ہمہ جہتی تدابیر و جہد مسلسل سے خدمات بیما لا ر ہے ہیں۔ایسی خادم انسانیت جماعت کے کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اور دنیا کو ان مہمات سے آگاہ کرنا جو کس جماعت کے اولوالعزم اور با حوصله افراد شب و روز کر رہے ہیں۔خدمت دین ہی کا ایک حصہ ہے۔ندائے احمدیت " احمدی کی تعریف " میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا احمدیت - خدام احمدیت وغیرہ نظموں میں اسی نظریہ کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے اور اسی پر اکتفا نہ کرتے ہوئے انفرادی رنگ میں بھی بعض خاص ہستیوں کے پاکیزہ خصائل کو متعارف کروانے کی کوشش بھی کی ہے۔حضرت مولوی پر جہان الدین جہلمی کے عنوان سے آپ نے جو نظم لکھی ہے وہ اسی جذبہ کی عکاسی کر تی ہے۔اسی قبیل کی ایک اور نظم حضرت مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت پر آپ نے رقم فرمائی جس کا عنوان تھا نعمت اللہ نے دکھلا دیا قربان ہو کہ۔“ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے لخت جگر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود کے خلاف جب اہل پیغام نے ایک مخالفانہ اور معاندانہ محاذ قائم کیا اور پیغام صلح نہ کے پردے میں شب و روز محمود دشمنی اور شقاوت قلبی کے اظہار کو اپنا پیشہ بنا لیا تو حضرت