مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 107 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 107

1۔4۔حضرت مولوی محمد الدین صاحب حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی وفات سے جہاں قادیان کی پبلک ایک مہربان شفیق اور محسن معالج کی خدمات سے محروم ہوگئی ہے۔وہاں سلسلہ میں ایک بلند پایہ رکن کی موت سے ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم و مغفور کی وفات سے پیدا شدہ خلا بھی ایسا ہے جس کو دوست ابھی تک بھول نہیں سکے۔اور نا معلوم که قادر گیتی ان جیسا و جو د پھر کب پیدا کرے۔اسی طرح حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی وفات کا خلا بھی بہت جلد پر ہوتا نظر نہیں آتا۔وہ نہ صرف اپنے فن کے استاد و ماہر تھے۔بلکہ فطرت انسانی کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔ہر طبیب کے لئے ضروری ہے کہ اس کو انسانی اعضاء کے باریک دربار یک تعلقات کا گہرا علم ہو۔لیکن اگر اس کے ساتھ ساتھ فطرت انسانی کا صحیح فہم بھی میسر ہو۔تو پھر یہ سونے پر سہاگے کا کام دیتا ہے۔حضرت میر صاحب مرحوم ان فوق العادت ہستیوں میں سے تھے۔جو پورے جسمانی و روحانی طبیب ہونے کے علاوہ سنن اللہ سے واقف اور راز ہائے اعجاز و کرامت سے پوری طرح آشنا ہوتے ہیں۔معلوم نہیں ان جیسا وجود پھر کتنی پشتوں کے بعد پیدا ہو۔فی الحال تو ہم سے عدل دیے مثال ہمدرد طبیب اور شفق دوست سے محروم ہو چکے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کو اپنی رحمت کی خاص چادر میں لپیٹ ہے۔اور اُن کے اور تمام راستبازوں کے طفیل ہما را انجام بھی نیک کرے۔آمین۔جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس حضرت میر محمد اسماعیل صاحب غفر الله له و نور مرقده حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو کے ایک جلیل القدر رفیق تھے۔اور محمد احمد اور محمود کے عاشق صادق