مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 105
۱۰۴- کام لیتے تھے۔تربیت اولاد کا درد بھی آپ میں حد سے زیادہ تھا۔میرے ساتھ ان کے تعلقات مود یا نہ تھے۔جماعت کے اکثر دوست جب آپ سے اپنا دکھ درد بیان کرتے تو حتی الوسع اور حتی الامکان خاص طور پر مہروی کا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔اور ان کے امور میں مخلصی کی راہ بھی نکالنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔آپ کی طبیعت اور آپ کے دل کی کیفیت حدود شریعت سے باہر جاتی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔جب دیکھا گفتگو میں بہت محتاط پایا۔رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک بھی قابل تعریف تھا۔با وجود اپنی شدید بیماری کے پھر بھی ان کا حق حتی المقدور ادا کرتے رہتے تھے۔میں کیا کیا لکھوں مجھے بھی ان سے اکثر معرفت کے نکات ملے ہیں اللہ تعالی آپ کے درجات بلند کرے۔اور فردوس بریں میں اعلیٰ مقامات کا وارث بنائے آمین۔جناب حافظ غلام محمد صاحب بی اے حضرت میر محمد اسماعیل کو حضرت سید ولد آدم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ الاسرا کی اولاد میں سے ہونے کا فخر بخشا تھا۔بلکہ سیدنا حضرت مسیح موعود د آپ پر سلامتی ہوں کا برادر نسبتی بننے کا شرف بھی عطا فرمایا تھا۔یہ تو محض خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان تھا۔لیکن جناب موصوف نے اپنے علم وعمل سے ثابت کر دکھایا تھا کہ واقعی آپ خدا کے ان تمام تفصیلات کے مستحق اور مور د تھے۔احقر کی رائے میں آپ مصداق تھے اذكر في الكتاب اسماعيل انه كان صادق الوعد وكان يا مر اهله بالصلوة والزكوة وكان عندريه مرضيا۔خدا نے آپ کو دنیا اور آخرت دونوں کی نعماء سے نوازا تھا۔کیونکہ آپ نافع التان اور خیر خواہ خلائق تھے۔خدا نے آپ کو ایسے پیشے کا مالک بنایا تھا جو خدمت خلق کے