مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 104
۱۰۳ اور ڈاکٹری علاج سے بالا اپنے لئے علاج کے خواہاں معلوم ہوتے تھے جس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے دوسرے علاجوں سے ان کے استغناء کا اظہار فرما کر اس اصل علاج کا ذکر فرما دیا جس کی طبیعی طور پر بلحاظ جذبات محبت و ذوق فطرت ان کی شدید خواہش تھی اور وہ علاج اللہ تعالیٰ نے خود ہی ذکرہ فرما دیا کہ ہم خود ہی ان کا علاج ہیں۔گویا وہ بقول حضرت امیر خسرو سے از سر بالین من برخیز اسے ناداں طبیب درد من عشق را دار و بهر دیدار نیست حضرت میر صاحب جیسے عاشق وجیہ اللہ کا علاج اللہ تعالی کا دیدار اور وصال ہی ہو سکتا تھا جو بالآخر آپ کو حسب پسند خاطر نصیب ہو گیا۔رزقنا الله ما رزقه عشقاً ووصلاً الفضل و اگست ۱۹۴۷، ۴۱۳) حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب محترم مکرم ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ میرے پرانے تعلقات تھے۔آپ اپنے فن میں تو ما سر تھے ہیں۔ساتھ ہی دینی معلومات میں بھی آپ کی ذہانت قابل داد تھی۔تقویٰ پر اکثر و بیشتر گفتگو فرماتے اور ساتھ ساتھ حدیثیں بکثرت پڑھتے جاتے تھے۔ان کے اشعار میں علاوہ روایتی طبع کے اوامر و نواہی اور تقوے کے بیان میں بلند پروازی کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔اگر طبیعت میں ذرا حدت تھی تو ساتھ ہی فورا وقت بھی طاری ہو جاتی تھی۔اور اپنی غلطی کے احساس میں جھٹ پشیمان ہو جایا کرتے تھے میں نے آپ میں یہ خاص وصف پایا تھا۔خانگی معاملات میں جیسا مجھے معلوم ہے۔عدل و انصاف سے آپ