مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 101 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 101

ان کا موجب ہی عشق تھا۔جو آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا۔چنانچہ بیگرام کے متعلق جو آپ نے پیش گوئی فرمائی۔اس کی محرک بھی وہ گالیاں تھیں جو وہ آنحضرت لی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیتا تھا۔اور انھم کے متعلق جو آپ نے ہلاکت کی پیشگوئی فرمائی۔اس کا اصل موجب بھی وہی عشق تھا جو آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا۔کیو نکہ جہاں آپ نے آتھم کے متعلق پیش گوئی فرمائی۔وہاں آپ نے آٹھم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کواپنی کتابوں کے اندرونہ بائبل میں دجال لکھا ہے۔یں نے حضرت میر صاحب کی سیرت کے صرف ایک دو پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔اگر آپ کی ساری صفات پر یکجائی نظر ڈالی جائے تو ہم کہ سکتے ہیں کہ حضرت میر صاحب مرحوم اپنے رنگ میں ایک بینظیر انسان تھے۔اے خدا ! حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہی مانیتوری حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب دونوں بھائی اپنے رنگ میں بے نظیر تھے اور سلسلے کے آفتاب و ماہتاب تھے۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نہایت متقی اور نہایت متواضع تھے۔مخلوق خدا کی دینی و دنیوی مدد کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔اپنی تکلیف نظر انداز کر کے دوسروں کا کام کر دنیا ان کی عادت تھی۔جو شخص ایک بار آپ سے ملتا ہمیشہ آپ سے زیادہ ملنے اور باتیں کرنے کی خواہش رکھتا۔حضرت مسیح موجود آپ پر سلامتی ہو کے ساتھ آپ کو ایک خاص قسم کا تعلق تھا۔آپ کی نظر بہت باریک بین تھی۔