مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 691 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 691

49۔بے غیرتی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ عقل کے ماتحت اپنے طبعی تقاضوں کو لگام دے کر نہیں کھتا پر ایسے لوگوں کو صاحب اخلاق فاضلہ کہنا غلط ہے۔گو بات بھی درست ہے کہ اچھے طبعی تقاضے برے طبعی تقاضوں کی نسبت بہر حال پسندیدہ ہوتے ہیں۔اخلاق فاضلہ یہ طبعی تقاضے نہیں ہوتے بلکہ واقعی اخلاق ہوتے ہیں۔یعنی ایسے طبعی تقاضے ہو عقل کے ماتحت چلائے جاتے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔اخلاق قسم اوّل یہ وہ اخلاق حسنہ ہیں جو انسان انسان کے لئے دکھاتا ہے۔ان میں مذہب کا دخل نہیں۔ایک دہریہ بھی یہ اخلاق رکھ سکتا ہے اور اپنی اخلاق پر ساری دنیا کا کاروبار چلتا ہے۔چونکہ انسان مدنی الطبع ہے۔اس لئے اس کا گزارہ ہی نہیں ہو سکتا۔جب تک وہ نیک اخلاق بر عمل استعمال نہ کرے۔وہ لوگوں کے ساتھ نیکی کرتا ہے۔تاکہ لوگ اس کے ساتھ نیک سلوک کریں۔وہ اپنے عہد پورے کرتا ہے۔تاکہ لوگ اس کے عہد پورے کریں۔وہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے تاکہ وقت پڑنے پر وہ اس کے ساتھ ہمدردی کریں۔وہ دوسروں کی تیمار داری کرتا ہے تاکہ بیماری کے وقت دوسرے اس کے کام آئیں۔وہ اپنے ہمسایوں کے دفن کفن میں شریک ہوتا ہے تاکہ تمہائے اس کے دفن کفن میں شریک ہوں۔یہ اخلاق مذہب نہیں ہیں۔لیکن مذہب کی بنیاد ہیں۔اور اس بنیاد پر مذہب کی دیواریں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔اور ان اخلاق کے سوا انسان کو چارہ بھی نہیں۔فرض کرو ایک شخص بیمار ہے لاچار ہے۔اس کی خدمت دوسرے انسان ہی کہ سکتے ہیں۔فرشتے عام طور پر اس کے لئے آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔یا کوئی مرگیا ہے۔تواش کی قبر دوسرے انسان ہی کھودتے ہیں۔جنات نہیں کھو دیں گے بغرض اکثر حالات میں انسان ہیں انسان کے کام آتا ہے۔خواہ وہ دوست ہوں بیوی بچے ہوں۔رشتہ دار ہوں۔بہائے ہوں یا گورنمنٹ کے کارندے ہوں۔اس وجہ سے دنیاوی زندگی اور امن کے لئے اخلاق کا یہ حقہ بھی