مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 692 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 692

۶۹۱ لازمی اور ضروری ہے۔مگر چونکہ یہ آپس کے لین دین کا حقیقہ ہے۔اس لئے اس محکمہ میں انسان انسان کو اجر دے دیتا ہے۔خدا کے ہاں اس کا خاص اجر نہیں ما ہیں دنیا میں آدمی کا اپنا بھائی ہی اس کا بدلہ اتار دیتا ہے اخلاق قسم ثانی یہ اعلیٰ اخلاق ہوتے ہیں۔ان میں طبعی تقاضے صرف عقل کے ماتحت ہی نہیں ہوتے۔بلکه ده عقل خود دین کے ماتحت بھی ہوتی ہے۔ایسے اخلاق دین کی بنیاد نہیں۔بلکہ خود دین ہی ہوتے ہیں۔ان کے اظہار سے مومن کی یہ نیت ہرگز نہیں ہوتی کہ بنی نوع انسان کے ساتھ میں اس لئے اخلاق فاضلہ پر توں کہ وہ لوگ وقت پر میرے کام آئیں۔بلکہ وہ اپنے ان اخلاق کو اس لئے استعمال کرتا ہے کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو۔وہ مخلوقات سے کسی امیر کی توقع نہیں رکھتا۔اور یہی وہ اخلاق ہوتے ہیں جن کا اشارہ اس آیت میں کیا گیا ہے۔اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء ولا شكورا (وبر (1) یعنی اے ہمارے ہم جنس حاجت مندو ہم تم کو محض خدا کی رضا کے لئے فائدہ پہنچاتے ہیں۔ہمارا ہر گرہ مقصد نہیں۔کہ تم ہم کو کسی قسم کا بدلہ دو۔یاشکر کا ایک کلمہ تک زبان پر لاؤ۔ان اخلاق کا اجر خدا کی طرف سے انسان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ ملتا ہے۔انسان ان اخلاق کا اجر نہیں دے سکتا۔یہ صرف خدا اسی کا کام ہے کہ ان کے عوض وہ بندے کو نیک اجر عطا فرمائے۔پہلے دونوں قسم کے اخلاق کو اس قسم کے اخلاق سے کوئی مناسبت نہیں۔اخلاق کی تیسری قسم یہاں تک ان اخلاق کا ذکرہ تھا۔جو انسان انسان کے لئے ظاہر کرتا ہے۔لیکن ایک تیری قسم بھی اخلاق کی ہے۔یو انسان انسان کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے ظاہر کرتا ہے