مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 683
۶۸۲ یعنی اس میں سے خود کھاؤ اور نہ سوال کرنے والے اور سوالی فقیروں کو کھلاؤ۔مگر ہوتا کیا ہے متمول یا متوسط درجہ کے لوگ جو روزانہ گوشت کھاتے ہیں۔ان کے ہاں بہت زیادہ گوشت پہنچتا ہے۔یہ نسبت اس کے کہ سوالی فقیروں یا خود دار مفلس کو ملے۔پھر آج کل تو ایک روپیہ یا سوار و پیه سیر گوشت بازار میں پکتا ہے۔غریب بیچارے اُسے کہاں کھا سکتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دن میں دو دفعہ گوشت اڑاتے ہیں۔ان کے ہاں بقرعید کے دن بھی گوشت کی بھر مار ہو جاتی ہے۔اور سب پر طرہ یہ کہ قربانی کا گوشت متمول لوگوں کے ہاں بطور نہوتہ کی بھاجی اور غرباء میں بطور اجرت کے تقسیم ہوتا ہے۔قادیان میں ان رسوم کے توڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔وہ اس طرح کہ گھر گھر سے قربانی کا گوشت لے کو نظر بار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔یا لنگر خانہ اور دار الشیوخ میں بھیج دیا جاتا ہے مگر ابھی رسم کے بہت سے حصہ کو توڑنے کی اور اس تقسیم کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔قادیان سے باہر کے لوگوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ یہ خدا کا فضل ہے جو نہیں خود بھی اس کے کھانے کی اجازت ہے۔ورنہ اکثر حصہ تو اس کا غربا کا حق ہی ہے۔جیسا کہ قرآن مجید سے ظاہر ہے۔یہ منع نہیں ہے کہ کوئی دوسرا نہ کھائے یا جہنوں نے خود قربانی کی ہو۔وہ دوسروں کے ہاں کا حصّہ واپس کردیں لیکن جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خود دار غرباء اور منگتے فقیروں کو تو اوجھڑی پھیپھڑوں والا گوشت اور ہڈیاں وغیرہ سیر ڈیڑھ سیر مل جائیں اور ملاحظہ دالوں متمولوں اور امیروں کے گھر بہترین حصہ چلا جائے یا ان لوگوں کو ہی ملے جو کیتوں کی طرح ہمارے گھر کا کام کاج کرنے آیا کریں یا امیر ہمسایہ کے ہاں ایک ران هیچی جائے۔اور غریب ہمسایہ کے ہاں پاؤ بھر کی بوٹی یا تمام بکرے میں سے سری کلیجی گردے فضلات اور عمدہ گوشت - قیمہ اور کباب بنانے کا چن چن کر خود رکھ یا جائے اور باقی تلچھٹ غریبوں کا حصہ بنے۔اسلامی اعمال کے سب امور نیتوں پر موقوف ہیں۔مگر بعض اعمال ان نیتوں کا پردہ فاش کر دیتے ہیں جو ان اعمال کے پیچھے