مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 604
بھی چھورا ہے۔کیونکہ وہ ہمیشہ لذیذ اور پسندیدہ اشیاء کھانا چاہتا ہے۔عموماً والدین تعریفی رنگ میں اپنے بیٹے کی اس خاصیت کو بیان کر کے کہتے ہیں کہ مہارا لڑکا تو بیچارا فلاں فلاں چیز سکھتا ہی نہیں۔گویا کہ وہ ایک تارک الدنیا ہوتی ہے۔حالانکہ بیٹے صاحب کبھی عمدہ اعلیٰ اور لذیذ اشیاء سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں حاصل کرنے کے لئے صوفی بنتے ہیں۔اصل صوفی وہ ہیں جو غریبانه امیرانہ سب قسم کی اشیا کھا لیا کریں۔پس اس بری عادت کا بھی مقابلہ اور اصلاح ضروری ہے۔-۲- کم خرچ اور مفید ناشتہ ، میرا خیال ہے کہ ہم میں سے اکثر احباب نے اپنے کھانوں میں واقعی سادگی اختیار کرتی ہے۔مگر یہ بات ناشتوں میں نہیں دیکھی گئی۔اول تو وہ سادہ کم خرچ نہیں ہوتے۔دوسرے وہ مفید نہیں ہوتے۔مفید نہ ہونے کی مثال تو چائے کا دائمی استعمال ہے۔جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔مگر سادگی اور کفایت کے متعلق یہ عرض ہے کہ ناشتہ میں بھی بہت سی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔اور بعض چیزوں سے تو خصوصا پر سیز کرنا چاہیئے کہ وہ گہراں ہیں اور نہایت مضر اور تقبیل مثلاً پیٹری جو معدہ اور انتڑیوں میں لیں اور لٹی کی طرح چپک جاتی ہے۔اور جگہ کے لئے تو پتھر کی طرح ہے پیکٹوں کا بھی قریباً یہی حال ہے جو اعلیٰ اور زود ہضم ہوتے ہیں۔وہ تو اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ایک بسکٹ بعض اوقات تین پیسہ فی عدد کے حساب سے پڑتا ہے۔اور اگر ایک آدمی شوق کرے تو آٹھ دس آنہ کے صرف ٹیکٹ ہی ایک ناشتہ میں کھا سکتا ہے اور غور کر کے دیکھو تو لیکٹ کیا ہیں ہے سوکھے ٹکڑے اور ریس اس صورت میں آپ سوال کریں گے کہ پھر ہمارا ناشتہ کن اشیاء کا ہونا چاہئیے۔سو میرے خیال میں نوجوانوں اور بچوں خصوصاً طالب علموں کو صبح کا ناشتہ دودھ اور پراٹھے سے کرنا چاہیئے۔ایک پراٹھا اور ایک سیٹھی پیالی دودھ کی طالب علموں کے لئے اسکول جانے سے پہلے کھاتی بہت اچھی ہے۔ہاں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ گھی اچھا ہو۔اس کے علاوہ بجائے دودھ کے دودھ کی بستی یا دہی کی لسی گرمیوں میں بہت مقید ہوتی ہے یا بجائے پراٹھے کے روٹی کے ساتھ مکھن