مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 574
۵۷۳ <44 روایت ۶۔میں نے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی دو دفعہ بیعت کی۔ایک دفعہ غالباً شاہ میں مسجد اقصٰی میں کی تھی۔اس وقت میرے ساتھ ڈاکٹر لوڑے خان صاحب مرحوم نے معیت کی تھی۔دوسری دفعہ گھر میں میں دن حضرت ام المومنین نے ظاہری بیعت کی اسی دن میں نے بھی کی منفی۔حضرت ام المومنین کی بیعت آپ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر لی تھی۔باقی تمام مستورات کی صرف زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔روایت ۸۷۲ - حضرت مسیح موعود در آپ پر سلامتی ہو) کے اس سفر دہلی میں جو آپ نے اوائل دعوئی میں شہداء میں کیا تھا ئیں اور والدہ صاحبہ حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔میر صاحب یعنی والد صاحب کی تبدیلی پٹیالہ ہوئی تھی۔وہ وہاں نئے کام کا چارج لینے گئے تھے۔اس لئے ہم کو حضرت صاحب کے ساتھ چھوڑ گئے تھے۔حضرت صاحب نواب لوہارو کی کوٹھی کے اوپر جو مکان تھا اس میں اُترے تھے یہیں ایک طرف مردانہ اور دوسری طرف زنانہ تھا۔اکثر اوقات زنانہ سیڑھی کے دروازوں کو بندر کھا جاتا تھا۔کیونکہ لوگ گالیاں دیتے ہوئے اُوپر چڑھ آتے تھے اور نیچے ہر وقت شور و غوغا رہتا تھا۔اور گالیاں پڑتی رہتی تھیں۔بد معاش لوگ اینٹیں اور پتھر سینکتے تھے میری والدہ صاحبہ نے ایک روز مجھے شنایا کہ جو بڑھیا روٹی پکانے پر رکھی ہوئی تھی۔وہ ایک دن کہنے لگی کہ بیوی یہاں آج کل دہلی میں کوئی آدمی پنجاب سے آیا ہوا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں حضرت عیسی ہوں اور امام مہدی ہوں۔اس نے شہر میں بڑا فساد مچارکھا ہے اور کفر کی باتیں کر رہا ہے۔کل میرا بیٹا بھی چھڑی لے کہ اس کو مارنے گیا تھا۔کئی ہے کئے گھر دروازہ ان سے بند تھا۔کھل نہ سکا۔مولویوں نے کہہ رکھا ہے کہ اس کو قتل کر دو۔مگر میرے لڑکے کو موقعہ نہ ملا ، اس بیچاری کو اتنی خبر نہ تھی کہ جن کے گھر میں بیٹی وہ یہ باتیں کر رہی ہے یہ اپنی کا ذکر ہے اور اسی گھر پر حملہ کر کے اس کا بیٹا آیا تھا۔اور بیٹے صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا۔کہ میری ماں اسی گھر میں کام کرتی ہے۔