مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 510
۵۰۹ بہر حال اپنا عہد پورا کر و۔ہم لوگ عہد شکنی نہیں ہیں۔باقی رہا مدد کا سوال۔سو ہم کو خدا کی مدد کافی ہے۔چنانچہ یہ دونوں صحابی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے۔حالانکہ موقعہ ایسا نازک تھا۔کہ دنیا کے لوگ سارے عہد و پیمان ایسے اوقات میں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔بہادری کا باپ (بدر) حضرت زبیر صحابی کہتے ہیں۔کہ بدر کے دن کا فروں میں ایک بہادر سردار تھا۔اس کا نام بعیدہ تھا۔وہ سر سے پیر تک لوہے میں غرق تھا۔صرف آنکھوں کے سوراخ کھلے تھے۔وہ میدان میں آکر للکارا۔اور کہا ہے کوئی جو میرے مقابلہ کو نکلے۔میں بہادری کا باپ ہوں۔لابوذات الکرش) حضرت زبیر یہ کہتے ہیں ہیں اس کے مقابلہ کو نکلا۔احساس پر نیزہ کا دار کیا۔اور ایسا تاک کر اس کی آنکھ میں نیزہ مارا۔کہ دماغ میں گھس گیا اور وہ کم بخت اُسی وقت گر کر مر گیا۔مگر میر انیزہ اس کے سرمیں ایسا پھنسا کہ میں نے بڑی مشکل سے ہلا ہلا کر اسے نکالا اور نیزہ دونوں طرف سے ٹیڑھا ہو گیا پھر یہ نیزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر سے مانگ لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بطور یادگار سب خلفاء کے پاس رہا۔مطعم بن عدی کی شکر گذاری انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے قیدیوں کے متعلق ایک دن فرمایا۔اگر آج مسلم بن عدی زندہ ہوتا۔اور ان کم بختوں کی سفارش کرتا۔تو میں اس کے کہنے سے سب کو چھوڑ دیتا۔ا یہ مطعم وہ شخص تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف سے واپسی کے وقت اپنی پناہ میں مکہ کے اندر لایا تھا) الفضل ۸ جنوری ۱۹۲۹ء)