مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 495 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 495

۴۹۴ کا جھنڈا حضرت زبیری کے ہاتھ میں تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو ابو سفیان نے کہا۔کہ یا حضرت آپ کو معلوم ہے کہ سعد بن عبادہ انصاری نے کیا کہا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا کہا ؟ وہ کہنے لگے کہ سعد نے کہا کہ آج قریش کے قتل کا دن ہے۔اور آج کعبہ میں لڑائی جائنہ کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سعد نے غلط کیا۔آج کا دن تو ایسا دن ہے۔کہ اللہ کیہ کو بزندگی دے گا اور اسے غلاف پہنایا جائے گا۔غرض اس تزک و احتشام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کدار کی طرف سے داخل ہوئے۔خالد بن ولید کو حکم منا کر تم دوسری طرف سے داخل ہو۔وہاں کچھ مشرکوں نے ان کا مقابلہ کیا جس میں دو صحابی مارے گئے اور بارہ تیره مشترک پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیه میں تشریف لے گئے۔اس وقت کعبہ کے گرد چاروں طرف باہر ۳۶ بہت لگے ہوئے تھے۔آپ اپنی چھڑی سے ان کو مارتے جاتے تھے۔اور فرماتے جاتے تھے کہ حق آگیا اور جھوٹ بھاگ گیا۔اور جھوٹا دین نہ اب کسی کے کام آیا۔نہ آئندہ کام آسکتا ہے وہ رات مسجد میں بسر کی (مدینہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ نذک سے چار اونٹ اناج کے آئے۔آپ نے بلال کو حکم دیا کہ اس غلہ سے جو کچھ قرضہ وغیرہ ہے۔وہ ادا کر دو۔چنانچہ ایک یہودی کا قرضہ ادا کیا گیا۔اور جو حاجت مند تھے ان کو دیا گیا۔اس کے بعد بال ہم نے عرض کیا۔کہ یا رسول اللہ سب کام ہوگیا۔آپ نے پوچھا کہ کچھ کے رہا یا نہیں ؟ بلال بولے۔یہاں کچھ باقی ہے۔فرمایا کہ جب تک کچھ بھی باقی رہے گا میں گھر میں نہیں جاسکتا۔ملال تیرے یا حضرت اب کوئی سائل اور حاجت مند ہی نہیں تو میں کیا کروں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات مسجد میں بسر کی۔دوسرے دن جب بلال نے عرض کیا۔کہ یا رسول اللہ خدا کے فضل سے وہ سب تقسیم ہو گیا۔تو آپ نے اللہ کاشت کر کیا اور اللہ کو گھر میں تشریف لے گئے۔