مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 487
مشترک شاعروں کا جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت شاعر سے کہا کرتے تھے۔کہ تم مشرکوں کی ہجو کرد۔جبرئیل تمہاری مدد پر ہیں۔(الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۲۸م) عبد اللہ بن سلام یہودی کا مسلمان ہونا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو ایک نیک یہودی جن کا نام عبد اللہ بین سلام تھا۔آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور کہا کہ میں آپ سے تین باتیں پوچھوں گا۔آپ ان کا جواب ٹھیک دیں گے تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔آپ نے فرمایا پوچھو۔انہوں نے تین سوال کئے۔آپ نے جواب دیئے۔عبد اللہ بن سلام نے آپ کے جواب سن کر کہا۔کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہو و لوگ بڑے جھوٹے ہیں۔اگر وہ میرے مسلمان ہونے کی خبر پا ئیں گے تو کہیں گے کہ اس کا کیا اعتیار وہ تو آدمی ہی بڑا تھا اگر مسلمان ہو گیا تو کیا ہوا۔اس لئے آپ ان کو بلا کر میری بابت تحقیقات کرلیں۔چنانچہ یہودی لوگ بلائے گئے اور عبد اللہ بن سلام اندر گھر میںچھپ گئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں سے کیسے شخص ہیں ؟ یہودی لگ کہنے گئے۔کہ ان کا باپ بھی بڑا عالم تھا اور وہ بھی بڑے عالم ہیں اور ہم سب ہیں بزرگ اور نیک شخص ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بتاؤ اگر عبداللہ مسلمان ہو چاہئیں۔تو پھر تو تم بھی اسلام نے آؤ گے۔یہودیوں نے کہا۔خدا انہیں بچائے۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔یسن کہ عبد اللہ بن سلام مکان کے اندر سے کلمہ پڑھتے ہوئے نکل آئے اور کہنے لگے کہ لوگو میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور محمد اس کے سچے رسول ہیں۔یہودیوں نے یہ جو حالت دیکھی تو لگے ان کو گالیاں دینے۔اور یہ بھی کہا کہ ہم خوب جانتے ہیں۔یہ شخص آپ بھی بڑا ہے اور اس کا باپ بھی برا ہے۔