مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 475
لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔مگر رمضان کے مہینے میں آپ کی سخاوت بے حد بڑھ جاتی تھی جب اس مہینہ میں حضرت جبرائیل ہر رات کو آپ کے پاس آتے اور قرآن کا دور کی کرتے تھے۔آپ قرض لے کر اس سے زیادہ دیتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک اونٹ قرض لیا۔کچھ مدت کے بعد وہ شخص آپ سے اس اونٹ کے بدلہ کا اُونٹ لینے آیا اور تقاضا کیا۔یہاں تک کہ اس نے بہت سخت کلامی کی اور گستاخی سے پیش آیا۔بعض معانی کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی اور اُسے مارنے کو اٹھے۔آنحضرت صلی الہ علیہ و سلم نے منع کیا۔اور فرمایا کہ قرض خواہ کی بات سخت ہی ہوتی ہے۔تم کہیں سے اس کے اونٹ کے بدلے ایک اونٹ کا بندوبست کرو۔لوگوں نے بہت تلاش کیا اور عرض کی یا رسول اللہ اس کے اونٹ سے بہت اچھے اچھے اونٹ تو ملتے ہیں۔مگر اس وقت دنیا نہیں ملتا۔آپ نے فرمایا۔اچھی قسم کا اونٹ ہی لا کر اسے دے دو۔کیونکہ اچھا آدمی وہی ہے جو قرض خواہ کو اس کے قرض سے بڑھ کر ادا کرے۔جانوروں سے نیکی کرنا بھی ثواب ہے ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے زمانہ کی ایک عورت کا قصہ اپنے صحابیہ کو سنایا۔فرمایا۔کہ ایک بہت بڑی اور گی ہنگار عورت تھی۔وہ کہیں جارہی تھی۔راستہ میں اسے پیاس لگی۔تو اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا۔جب وہاں سے چلی تو دیکھا کہ پاس ہی ایک کتا پیاس کے مارے بیقرار ہے اور گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔اس نے دل میں کہا کہ یہ میری طرح پیا سلہ ہے۔اسے پانی پلانا چاہیئے چنانچہ وہ پھر کنوئیں میں اتری اپنی جوتی