مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 397
ہے۔اور مراعلم کا آخری حرف ہے۔اسی طرح آپ طلسم کے منقطعہ میں کر کے معنی لطیف کرتے ہیں۔یہاں بھی ط درمیانی حرف ہے۔پس یہ دیگران را نصیحت والی بات کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی اور جب معزز عربی نژاد صحابہ نے آلہ کے معنے انا الله اعلم کے کئے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کی زبان میں یہ بات بالکل جائز ہے۔کو موجودہ زمانہ کی انگریزی میں اس کا رواج نہ ہو۔اور خواہ آپ اس کے معنوں کے قائل نہ ہوں۔تب بھی آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ مستند اہل عرب کے نزدیک یہ ترکیب جائز ہے۔اور جو چیز اہل عرب کے نزدیک جائنہ ہے۔وہ کسی دوسری زبان کے معیار پر پرکھنے سے نا جائزہ نہیں ہو سکتی۔(0) ایک بزرگ نے یہ اعتراض کیا کہ مقطعات کو دو کلاسوں میں تقسیم کرتے ہوئے آپ نے ایک جماعت وہ رکھی ہے جس کے بعد آیت ہے اور دوسری وہ کل کس رکھی ہے جن کے بعد وقف کا نشان ہے۔حالانکہ آیتوں اور وقف کے نشان تو بعد کی ایجاد ہیں ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے ہی نہیں نہیں یہ آپ کی لاعلمی اور بے وقوفی ہے۔اس حصہ کو کاٹ دیں۔جواباً میری طرف سے یہ عرض ہے کہ یہ درست ہے کہ قرآنی تحریر میں ہ نشان آیت کا اس زمانہ میں لکھا نہیں جاتا تھا مگر آیتیں تو موجود تھیں۔اور خود قرآن مجید میں ان آیات کا صریح ذکر ہے سینیئے -١ مِنْهُ أيتَ مُحْكَمَتْ هُنّ أم الكتب وأخَرُ متشبهت الى عمان۔ترجمہ جس کی بعض ( آیتیں تو محکم آیتیں ( ہیں جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور (ہیں) جو متشابہ ہیں۔- تِلْكَ ايْتُ اللهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ۔۔۔۔(البقره ٢٥٣٠)