مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 398 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 398

توجہ۔یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم تھے پڑھ کر سناتے ہیں۔اس حالت میں کہ تو حق پر قائم ہے۔الريف تلك ايت الكتب الحكيم (يونس ٣٠) ترجمه ، الویہ (یعنی اس سورۃ کی آیتیں ) کامل (اور) پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔وَلَقَد أَنزَلْنَا إِلَيْكَ ايت بينت (البقره۔۔۔) ترجمہ ، اور ہم نے تجھ پر یقیاً کھلے کھلے نشان نازل کئے ہیں۔٥ لَقَالُوا لَن لَا فُصِّلَتْ آياته (حم سجده (۴۵) ترجمہ تو وہ ڑکے والے) کہ سکتے تھے کہ اس کی آیتیں کھول کر کیوں نہیں بیان کی گھیلی۔وغیرہ وغیرہ پھر سب سے بڑھ کر فاتحہ کو سبع من المثانی کہہ کر اس کی آیات کی گفتی بھی تعین کر دی ہے۔اسی طرح آپ تمام قرآن کو دیکھے ہیں۔آیتیوں کے نشان خواہ لگے ہوں یا نہ ہوں۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہاں سے یہاں تک ایک آیت ہے۔آیت تو اپنے قانیوں اور خواتیم اور مضمون سے پہچانی جاتی ہے۔جس طرح ہر زبان میں فقروں کی بناوٹ سے ہم بتا دیتے ہیں کہ یہ فقرہ یہاں سے یہاں تک ہے۔آگے نیا فقرہ شروع ہوتا ہے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرون اولیٰ کے لگ آیتوں پر پہنا ٹھہر نہیں کرتے تھے۔میں اس ٹھہرنے کا نام آیت ہے خواہ اس کے تحریری طور پر غیر عربی لوگوں کے لئے بند میں مقرر کئے جائیں۔کیا احادیث میں نہیں آتا کہ جو سورہ کہف کی دس پہلی اور دس پچھلی آیتیں تلاوت کرے گا ، وہ فتنہ دجل سے محفوظ رہے گا ؟ کیا اگر قرون اولیٰ میں لوگوں کو آیتیں معلوم نہ تھیں تو اس حدیث کے معنے ہی کیا ہونا ہے۔؟ کیا صحابہ کے اقوال میں متعدد جگہ ایسے