مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 303
٣٠٣ اٹھائیں گی۔ہاں جو حصہ شرع نے اُن پر نہیں لگایا اور وہ تکلیف دہ ہے۔اُسے بیشک دور کر دیں وہ خدا جو تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ مہربان ہے تمہاری بہتری کے لئے ایک تجویز مقرر فرماتا ہے۔اگر اسے قبول نہ کر دگی تو تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ اس دنیا میں تمھارے اعلیٰ جو ہر اور آئندہ عالم میں تمھارے نیک ثمرات برباد ہو جائیں گے۔سوال : پر دہ اگر احکام دین میں داخل ہے تو پھر بتائیے کہ نہ کرنے والی عورت پر اسلام نے کیا سزا مقرر کی ہے ؟ اگر نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ پردہ ضروریات دین میں داخل نہیں ہے۔جواب : میک پرده احکام دین میں داخل ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں اس کے متعلق مومنوں کو مخاطب کر کے صاف احکام موجود ہیں۔مگر پردہ اسلام نے نیکی اور تقوی کے بہ قرار رکھتے اور دلی پاکیزگی اور طہارت میں امداد دینے کے لئے قائم کیا ہے۔اس لئے اس کے نہ کرنے والے پر تعزیہ اور مزا نہیں ہے۔یہ تو ایک نیکی ہے۔تقویٰ کی ایک شاخ ہے۔پرہیز گاری کا ایک شعبہ ہے پس تہ کرنے والا جسمانی اور قانونی تعزیر کے نیچے نہیں آئے گا۔اسلام نے علم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے مگر کیا کسی ایسے شخص کے لئے کو ئی مترا مقرر کی ہے جو علم حاصل نہ کرے ہے قرآن نے تقویٰ کی باریک در باریک راہوں پر چلنے کے احکام پیش کئے ہیں مگر کیا جو اعلیٰ درجہ کا متفقی نہ رہتے اس کے لئے قید یا تازیانہ وغیرہ سرا تجویز کی ہے ؟ اسی طرح صدقات اور تہجد اور نوافل وغیرہ یہ بہت زور دیا ہے مگر کیا یہ بھی کہا ہے کہ جو صدقہ نہ دے اس کو ۲۰ درے مارے جائیں اور جو نفل نہ پڑھے اُسے درے اور جو تہجد گزار نہ ہوا سے ۱۰۰ درے۔پر وہ بھی نیکی اور تقویٰ کی راہوں میں سے ایک راہ ہے۔ان باتوں میں داخل نہیں ہے۔جن پر سزا اور حدود قائم ہوتی ہیں۔وہ تو تین ہی قسم کی چیزیں ہیں یعنی اموال اور دیا اور اعراض کا نقصان۔پردہ سے تو صرف نیکی اور تقویٰ میں ترقی ہوتی ہے اور انسان فتنوں اور برائیوں سے بچتے ہیں پس اگر کوئی