مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 304 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 304

٣٠٣ عورت اس کا خیال نہ رکھے گی تو شریعت اسے جوانی سزا نہ دے گی ہاں اس کی نیکی پاکیزگی اور طہارت میں فرق آجائے گا اور فتنوں کا راستہ کھلتا جائے گا۔یہاں تک کہ آخر کار ان گناہوں کے ارتکاب تک بھی نوبت پہنچے گی جن پر شریعت نے مزار کی ہے۔قرآنی شریعت نے مسلمانوں کے لئے بکثرت ایسی ہدایات دی ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے بدی نہیں بلکہ بدی کی جڑ کٹتی ہے اور بدی پیدا ہی نہیں ہونے پاتی اور پردہ بھی انہی باتوں میں سے ایک بات ہے جن سے بدیوں کا سد باب ہوتا ہے اور گناہ کا بیج ہی برباد کر دیا جاتا ہے۔پس اس پر تحریر مقرر کرنے کے کیا معنی؟ یہ اعتراض ہی نخوا اور شرعی تعزیرات کے اصول کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔ہاں ایک قسم کی تعزیر کا ذکر قرآن میں ان عورتوں کے لئے موجود ہے جو پردہ کے اصول کو بالائے طاق رکھ کر بے حیائی کی باتیں کرتی ہیں۔مثلاً اپنا سنگار جان بوجھ کر نامحرموں کو دکھاتی ہیں اور زینت کا اظہار کرتی ہیں اور بار بار بے شرمی کی حرکات کرتی ہیں۔مشگلا شارع عام میں اپنی بے پردگی کرتی ہیں اور غیر مردوں سے سہنسی مذاق وغیرہ کرتی ہیں میں ایسی عورتوں کے لئے جو اسلامی پردہ کے حدود کو جان بوجھ کر بے حیائی اور بے شرمی سے توڑتی ہیں اور قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ اُن کو گھروں سے بالکل باہر نہ نکلنے دیا جائے اور ان کو قیدیوں کی طرح گھر میں رکھا جائے تاکہ وہ اپنی حرکات سے لوگوں پر برا اثر نہ ڈالیں پس پردہ کو خراب کرنے والیوں کی تعزیر مزید پر دہ ہے تاکہ ان کی اصلاح ہو جائے۔اور اس تعزیر کے لئے ضروری نہیں کہ عدالت کی طرف رجوع کیا جائے۔بلکہ یہ کافی ہے کہ خاوند اپنی صورت کی اور باپ یا بھائی وغیرہ ولی اپنی لڑکی اور بہن کی اصلاح کریں۔والتي ياتين الفاحشة من نسائكم فاستشهد واعليهن اربعة منكم فان شهدوا فامسكوا من في البيوت حتى يتوفهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا -