مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 291
۲۹۰ ، چوتھا خاص اوقات کا پردہ ہے جو بچوں اور نوکروں نک سے ہے۔یہ پردہ گھروں اور مکانوں کا نہیں بلکہ پرائیویٹ کمروں کا ہے اور اس لئے اوپر کے طبقہ کے لوگوں سے اس کا تعلق ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ دن میں تین وقت میں جب میاں بی بی علیحدہ اپنے پرائیویٹ کمرہ میں ہوں تو اس وقت اپنے بچے اور گھر کے پروردہ بھی بغیر اجازت حاصل کئے ان کمروں میں داخل نہ ہوں۔یہ خلوت کے وقت کا پردہ ہے۔اس پر یہاں زیادہ تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھدار لوگ اس کی ضرورت کو خود تسلیم کر لیں گے۔میرا خیال ہے کہ میں نے شرعی پردہ کا بیان ایسا واضح کر دیا ہے کہ اب مشخص اسے سمجھ سکتا ہے اور پھر اپنے حالات کے مطابق اس پر عمل کر سکتا ہے۔شکا ایک شخص اپنے ایک مکان میں شہر سے باہر رہتا ہے اور وہاں کوئی نا محرم نہیں آتا۔نہ کسی گھر سے وہاں نظر ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں کہ عورتیں وہاں اپنی زینت اس طرح نہ ڈھانکیں جس طرح بیان ہو چکا۔پردہ کی فرضیت اگرچہ سب شرعی ذمہ داریوں کی طرح بلوغت سے ہی شروع ہوتی ہے۔مگر عادت ڈالنے کے لئے لڑکیوں کو ، اسال کی عمر سے یہ احتیاطیں شروع کرائی جائیں تا کہ ان کو مشق ہو جائے۔سات سال کی عمر سے لڑکی میں لڑکی ہونے کا احساس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے اس عمر کے بعد سے اسے غیر لڑکوں میں بہت مل کر نہ کھیلنے دیا جائے۔پھر اسال کی عمر میں وہ نامحرموں سے بے تکلفی چھوڑ دیں۔اب جبکہ شرعی پردہ معلوم ہو گیا تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ عورتوں کو صحت کی خاطر