مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 252 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 252

۲۵۱ تمام مخلوقات میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو کسی کا کوئی گناہ بخش سکے گیا ہوں کی بخشش صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مخصوص ہے۔۔< إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا الله اس کی درگاہ ظلم کے عیب سے بالکل پاک ہے۔وہاں یا تو رحم ہے یا الصاف ہے یا مناسب مندرا نیکی کا بدلہ نیک ہے بلکہ بہت بڑھ کر ملتا ہے۔بدی کی منا بڑھا کر نہیں بلکہ آسنی ہی دی جاتی ہے۔اگر کوئی نیکی کی صرف نیت کرے تو اس نیت کا اجر بھی ملتا ہے لیکن بدی کی نیت کرے اور کر نہ سکے تو کوئی سمترا نہیں۔اور اگر بدی کا ارادہ کر کے پھر دہی کرنے سے پہلے ہی اس سے باز آ جائے تو پھر نیکی محسوب ہوتی ہے نہ کہ بدی۔- استغفار کی دعا بارگاہ اہلی میں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہے۔- کوئی دوسرا شخص کسی کے لئے مغفرت کی دعا کرے تو وہ نہ صرف اسی محض کے لئے مقبول ہوتی ہے بلکہ دعا کرنے والا بھی ہمارہ کی مغفرت کا حصہ پاتا ہے اور زندوں کا بہترین ہدیہ مردوں کے لئے استغفار ہی ہے۔غفور الرحیم خدا نے بے انتہا فرشتے عالمین کے ہر گوشہ اور کو نہ کو نہ میں بٹھا رکھتے ہیں اور ایک نہایت معزز اور مقرب طبقہ ملائیکہ کا اپنے ہوش کے گرد مقرر کیا ہے تاکہ وہ ہر وقت انسانوں کے لئے مغفرت کی دعا اور سفارش کرتے رہیں۔خدا تعالی مغفرت کرنے سے نہیں ہچکچاتا خواہ کسی مومن کے گناہ پہاڑ جتنے ہوں یا آسمان تک ہوں اور سروز کا انتہا گناہ انسانوں کے اس غفور الرحیم کے فضل و کرم سے یو ہنی معاف ہوتے رہتے ہیں۔۱۲ آخرت میں تمام انبیاء خصوصا سرتاج انبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ملکہ دیگر جملہ مقربین بھی شفاعت کا اذن پائیں گے اور لا تعداد مخلوق ان کی شفاعت سے منشی جائے گی اور نہ صرف بزرگوں اور نیکوں بلکہ قرآن مجید اور اس کی سورتوں کی سفارش