مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 248 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 248

(۳۲) اس کے بعد سید الشہداء حمزہ بن عبد المطلب شیر خدا کا مقدمی پیشیں ہوا۔گواہوں نے کہا کہ یہ ایک دن شراب کے نشے میں بیٹھے اپنی ایک لونڈی کا گانا سن رہے تھے کہ خوش ہو کر فرمانے لگے : مانگ کیا مانگتی ہے ، اس لونڈی کو حضرت علی ابن ابی طالب سے کچھ عناد تھا۔کہنے لگی جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے علی نور کو دو اوشنیاں اپنے حصے کی ملی ہیں اور وہ فلاں احاطہ میں بندھی ہیں۔میرا جی چاہتا ہے کہ ان کی تازہ کلیجی بھون کر کھاؤں؟" اس پر یہ صاحب اُٹھے اپنا خنجر سنبھالا اور اس احاطہ میں پہنچ کر ان زندہ اوشنیوں کے پیٹ چاک کر ڈالے اور پیٹ کے اندر سخت بیدردی سے ہاتھ ڈال کر ان کی کلیاں کھینچے کہ نکال لیں اور اس لونڈی کو لا کر دے دیں کہ کھا لو۔بعد میں وہ زخمی جانور وہیں تڑپ تڑپ کہ مر گئے۔لوگوں نے حضرت علی ہم کو خبر کی۔وہ روتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔حضور ان کو ساتھ لے کر ان صاحب کے ہاں تشریف لے گئے وہ نشہ میں کیا فرماتے ہیں کیا تم دونوں میرے باپ کے غلام نہیں ہو۔“ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور سمجھ لیا کہ وہ شراب کے نشے کی وجہ سے ہوش میں نہیں ہیں۔ان سے بات کرنا فضول ہے۔اس کے کچھ مدت بعد یہ صاحب اُحد کی جنگ میں مارے گئے ہم ان سے اس فلم کا قصاص چاہتے ہیں جو ان سے سرزد ہوا تھا اور جو مذہب کے متعلق نہ تھا بلکہ انسانیت کے خلاف تھا۔اور گو اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی، پھر بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔کیونکہ یہ سخت قساوت قلبی اور ظلم ناحق کا مظاہرہ تھا جسے انسان کی فطرت دھکے دیتی ہے خواہ وہ کسی مذہب وملت کا ہو اس لئے ہم جو سائق ہیں اس کا قصاص طلب کرتے ہیں۔بارگاہ خداوندی سے ارشاد ہوا کہ ہم تو اس قصور کا قصاص پہلے ہی لے چکے ہیں۔