مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 247
۲۴۶ وہ عرض کرنے لگا۔مولا ! کیا تو نے مجھے اس لئے جہنم سے نکالا تھا کہ پھر دوبارہ اسی میں ڈالا جائے“ اس پر حاضرین مہنس پڑے۔ارشاد ہوا " اے بے صبر! اچھا جا۔ہم نے تجھے بخشا اور ترے ساتھی کو بھی “۔(۳۱) غرض اسی طرح کے حالات دیکھتے ہوئے ہم ایک گردہ صحابہ کی طرف گئے وہاں بھی کچھ جھگڑے اور حساب کتاب شروع تھا۔ایک صحابی حاطب کے متعلق ان کے گواہوں نے بیان دیا کہ اس شخص نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ خیانت کی ہے کہ اس کی سزا دنیا میں سوائے قتل اور عاقبت میں سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔اس نے کفار مکہ کو خط لکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تم پر یکدم مخفی حملہ کرنے والے ہیں ، تم ہوشیار ہو جاؤ۔اس نے حضور کا راز فاش کیا ، کفار کو مدد دی ، اور مسلمانوں کو تباہ کر نے کا پورا سامان مہیا کر دیا۔اگر خداوند تعالیٰ کی طرف سے حضرت ختمی باب کو ہر وقت اطلاع ز مل جاتی تو فتح مکہ کی ساری تجاویز در ہم یہ ہم ہو کر رہ جائیں۔اس سے بڑھ کر غدار ہم کو تو کوئی نظر نہیں آتا۔بارگاہ الہی سے ارشاد ہوا کہ تمہاری بات بالکل سچی ہے لیکن تجھ میں ہمارا جو فرمان اہل بدر کے لئے جاری ہوا تھا اس کا ریکارڈ نکالو۔یہ ارشاد کی دیر تھی کہ فرمان متعلق اہل بدر حضوری میں پڑھا گیا اور وہ یہ تھا۔اعْمَلُوْ مَا شِتُمْ فَإِنِّي غَفَرْتُ لَكُم راب جو چاہو کرو۔میں نے تمہاری مغفرت بہر حال کر دی ) نیزار شا ر ہوا کہ بندوں کی بعض اہم خدمات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے بعد ہم ان کو ایسا ہی انعام دیا کرتے ہیں۔جانے دو حاطب کو اہل بدر کے ساتھ وہ مغفور ہے۔