مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 240
۲۳۹ غرض شہادت مغفرت اور بلندی درجات کے ایسے بہت سے راستے کھول دیتے ہیں کہ اگر مومن خدا کا شکر کرتے کرتے مری جائیں تو بھی اپنے مالک کا حق ادا نہیں کر سکتے۔یہاں تک کہ جو شخص شہادت کے لئے دعا مانگتا ہے پھر خواہ اپنے بستر پر یہی اس کی جان نکلے وہ بھی شہید ہی محسوب ہوتا ہے۔(۱۷) عورتوں کے لئے تو وہاں بہت ہی نرمی تھی اور عام حکم یہ تھا کہ جو عورت نماز پڑھے روزہ رکھے اپنی عفت کی حفاظت کرے اور خاوند کی نافرمان نہ ہو، وہ بہشت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔(۱۸) پھر ہم اور آگے چلے وہاں ایک شخص کا مقدمہ میں تھا جو آنحضرت صل الا علیم کے زمانے میں قوت ہوا تھا جب اس نے وفات پائی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے جنازہ کے لئے نکلے۔حضرت عریض نے عرض کیا حضور یہ ایک ناجر فاسق شخص تھا اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حاضرین جنازہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کیا کسی نے اسے اسلام کی کسی بات پر عمل کرتے دیکھا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا " ہاں یا رسول اللہ اس نے خدا کی راہ میں ایک رات پہرہ دیا تھا ؟ یشن کہ حضور نے اس کی نماز پڑھی، اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور اس کی نعش کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔اے مرنے والے ! تیرے دوستوں کا خیال ہے تو جہنمی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو یقیناً جنتی ہے۔اور اسے عمر بن خطاب ! تو لوگوں کے تفصیلی اعمال نہ کریدا کمر بلکہ صرف یہ دیکھ لیا کہ کہ آیا وہ اسلام کا مجملاً متبع ہے یا نہیں۔"