مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 235
۲۳۴ حاضرین کی آنکھوں میں یہ نظارہ دیکھ کہ آنسو آ گئے۔اتنے میں ایک اور والدین کا مقدمہ پیش ہوا ، اور اس کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سانچہ ، جس کے آنول نال ابھی اس کے ناف کے ساتھ ہی تھے، چھینے چلانے لگا اور کہنے لگا۔اے رب امینی استقاط شدہ بچہ ہوں اور تیرے فضل سے مجھے جنت میں رہنے کی اجازت ملی ہے۔مگر میں ہر گز وہاں اپنے ماں باپ کو دوزخ میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔“ حکم ہوا کہ تیری خاطر ہم نے ان کی مغفرت کر دی ہے جا ان کو بھی جنت ہیں۔وہ بچہ بھی اپنی آنول نال کے ساتھ اپنے والدین کو کھینچتا ہوا جنت کی طرف لے گیا اور سب دیکھنے والے چشم پر آب تھے۔(۱۰) پھر ہم آگے چلے۔ایک شخص کے اعمال نامہ میں کچھ کسر تھی۔وہ اس طرح پوری کی گئی کہ چونکہ وہ اپنے بندگی والدین کی قبر کی ہر جمعہ کے دن زیارت کرتا تھا اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا۔دائیں طرف ایک ایسا جم غفیر نظر آیا، حسین کے لوگ اپنے اعمال کے وزن کی رو سے بہت ناقص ثابت ہوئے تھے، مگر ان سب کی بخشش اس لئے ہوئی کہ ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام رات صبح تک کھڑے یہ دعا فرماتے رہے تھے۔إن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمُ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائده : ١١٩) توجه به اگر تو امنین عذاب دینا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخشتا چاہے تو تو بہت غالب (اور) بڑی حکمتوں والا (خدا) ہے۔پس اس دعا کی مقبولیت کے نتیجہ میں امت محمدیہ کے یہ سب لوگ نجات پاگئے۔