مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 171
16۔اس را و سلوک کا آخری مرحلہ جو اس نظم میں بیان ہے اس کیفیت کے اظہار پر مشتمل ہے جہاں حضرت میر صاحب اپنے دل پر بارگاہ احدیت سے وصال کی تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔فرماتے ہیں۔- اسے خوشا وقت کہ پھر وصل کا ساماں ہے دہی دست عاشق ہے وہی یار کا داماں ہے وہی دل کے آئینہ میں عکس رخ جاناں ہے وہی مردم چشم میں نقش شد خوباں ہے وہی ہو گئی دُور غم ہجر کی کلفت ساری شکر صد شکر کہ اللہ کا احسان ہے وہی مژده ای جان و دله و دلم پھر وہی ساقی آیا ہے وہی بزم وہی سانفر گرداں ہے وہی مل گئے طالب و مطلوب گئے آپس میں رب محسن ہے وہی بندہ احسان ہے رہی پھر دہی جنت فردوس ہے حاصل مجھ کو نقل ایماں ہے دہی چشمہ عرفاں ہے دہی فد سے ذرے میں مرے رہ گیا دلدار ازل ذکرہ میں لب پہ وہی فکر میں پنہاں ہے وہی آتش عشق و محبت کا دہی زور ہے پھر قلب بریاں ہے وہی دیده گریاں سے دہی