مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 143 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 143

۱۴۲ حضرت میر صاحب بھی اسی ہسپتال میں تھے چنانچہ آپ نے خاص توجہ سے آپریشن کروایا اور اس کے بعد اپنے گھر لے گئے جو ہسپتال کے احاطہ میں ہی تھا۔اور جتنے دن وہاں قیام رہا ان کا اور ان کی اہلیہ کا کھا نا آپ کے ہاں ہی پتا۔حضرت خان صاحب ہی کا بیان ہے کہ امرتسر میں کثرت کے ساتھ آپ کے مہمان آتے۔یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کی ساری تنخواہ مہمان نوازی پر صرف ہو جاتی۔مگر آپ کی بشاشت میں ذرہ فرق نہ آتا۔جذبہ خیر خواہی شیخ فضل احمد صاحب جو عرصہ تک افسر امانت رہے ان کا بیان ہے کہ ایک بارا نہیں مانی تنگی سے دوچار ہونا پڑا۔انہوں نے قادیان میں ایک مکان پانچ ہزار روپیہ خرچ کر کے بنوایا تھا مشکل اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس مکان کو دو تین ہزار میں بھی بیچنے پر آمادہ ہو گئے۔حضرت میر صاحب سے انہوں نے مشورہ اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا جب تک میں نہ کہوں مکان نہ بیچنا مشکل تو ہرت تھی لیکن میں نے آپ کے مشورہ پر عمل کیا۔چنانچہ کچھ مدت بعد وہ مکان ساڑھے چھ ہزار ہیں لیکا۔جذبہ خیر خواہی کی یہ ایک۔عمدہ مثال ہے۔اب لڑکا ہوگا مولوی محمد یعقوب صاحب انچارج شعبہ زود نویسی نے بیان کیا کہ حضرت میر صاحب نے اپنے ذوق کے مطابق الفضل میں ایک مضمون لکھا۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر کسی کے ہاں لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی ہوں اور وہ اپنی لڑکی کا نام بیٹری رکھے تو اس کے بعد جو بچہ پیدا ہوگا وہ لڑکا ہوگا۔اس کی ستر فیصدی امید ہے اور میں فیصدی یہ امکان ہے کہ اس کے معابعد تو لڑکی پیدا ہو لیکن پھر اس کے بعد دوسرے نمبر پر لڑکا ہو گا چنانچہ