مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 109
کی کسی آیت پر غور کر رہے ہوتے تھے۔اور کوئی مفید مشورہ اور سلسلہ کی کسی ضرورت کا تذکرہ کرتے تھے۔آخری چند سالوں میں آپ سر گھڑی اپنے مولی سے ملنے کے لئے آمادہ اور تیار بیٹھے تھے بسفر آخرت کے لئے پوری طور پر تیاری کر چکے تھے۔دنیا سے مومنانہ طور پر دل برداشتہ نظر آتے تھے حضرت میر صاحب کی بہت سی یادیں اور بہت سے کام ہیں جو ہمیشہ یادر ہیں گے۔اور ان کے درجات کی بلندی کا موجب نہیں گئے ہیں آج ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔غالباً تین سال گزرے کہ بورڈ نگ تحریک جدید میں ایک تقریب دعوت متھی۔احباب نے خواہش ظاہر کی کہ حضرت میر صاحب اس کے صدر ہوں۔حضرت میر صاحب کو طبیعی طور پر امتیاز اور علو پسندی سے نفرت تھی۔انہوں نے بہت انکار کیا اور آخر مجبور ہو گئے تو اس شرط سے کرسی صدارت پر بیٹھے کہ میں کوئی تقریر نہیں کروں گا۔جب دعوت ختم ہو گئی۔ایڈریس وغیرہ دیئے جاچکے۔تو اجاب نے اصرار کیا کہ حضرت میر صاحب بطور صد رکچھ فرمائیں۔بعد مجبوری حضرت میر محمد اسماعیل صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے تقریر کی تقریر کیا تھی۔سادہ الفاظ مگر دل میں پیوست ہو جانے والے چھوٹے چھوٹے فقرے نگران میں محبت الہی و عشق ربانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔آپ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہے کہ دنیا میں اتفاقی واقعات ہوتے ہیں۔دنیا میں ہر چھوٹا بڑا کام ہمارے زندہ خدا کے ارادہ سے ہوتا ہے۔اور ہر واقعہ میں اس کی تعقیب دیر کام کرتی ہے۔اس لئے اتفاق کہنہ کہ خدائی قدرتوں سے رو گردانی نہیں کرنی چاہیئے۔اور اس دنیا کے وسیع کارخانہ کو اور اس کے کاموں کو سر انسان اپنے لئے سمجھے تو اسے اللہ تعالیٰ کے فضل کا خاص احساس ہوتا ہے۔یہ تقریر ایسے انداز میں ایسے واقعات پر مشتمل تھی کہ سامعین پر ایک وجدانی کیفیت طاری تھی۔حضرت میر محمد مامیل صاحب ہمیشہ اسی طریق پر لذت اندوز ہوتے تھے۔کہ وہ ہر فضل کو اپنے لئے سمجھتے تھے