مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 93
۹۲ میری نعش کو غسل دینے کے لئے اگر شکنی ہو تو شیخ عبدالرحیم صاحب بھائی بھی اور شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی اور حکیم عبد اللطیف صاحب شہید کو بلالیا جائے۔شہید صاحب پانی ڈالیں۔کفن موجود ہے۔آخر جب وہ وقت آیا کہ حضرت میر صاحب کی روح کلی ، اعلیٰ میں پرواز کر گئی۔اور صرف ان کی نش، رو گئی۔تواس کے متعلق آپ نے جس خواہش کا اظہار فرمایا تھا۔اسے پورا کرنے کے لئے خدا تعالٰی نے سامان کر دیئے۔مذکورہ بالا تینوں اصحاب زندہ و سلامت تھے۔قادیان میں موجود تھے۔اور صحت و تندرستی کی حالت میں تھے۔وہ اپنا فرض ادا کرنے کے لئے خود پہنچے گئے۔خدا تعالیٰ نے انہیں حضرت میر صاحب کی خواہش کو لفظ لفظ پورا کرنے کی توفیق دی۔میں نے حضرت میر صاحب کی وفات کے بعد حضرت شیخ عبدالرحیم صاحب بھائی کی سے پوچھا۔حضرت میر صاحب نے اپنی زندگی میں آپ سے اس بات کا ذکر کیا ہوگا۔اس وقت آپ نے یہ نہ کہا۔کہ کون جانتا ہے پہلے کون فوت ہو کہنے لگے۔میں نے کہا تھا۔مگر میر صاحب نے جواب دیا۔آپ لوگ مجھ سے پہلے نہیں فوت ہوں گے۔پہلے میری باری ہے۔نعش کے غسل کے بعد قبر کا سوال آتا ہے۔اس کے متعلق بھی حضرت میر صاحب نے اپنی خواہش کا اظہار فرمایا۔اور خدا تعالیٰ کی قضاء قدر کے متعلق اپنی پوری رضا کے ساتھ فرمایا۔نیز حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے کمال ادب و احترام کے ساتھ حسن طلب میں بھی کمال کر دیا۔چنانچہ لکھا۔درخواست آخر میں حضرت خلیفہ ایسیح کی خدمت میں السلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ کوئی شخص اپنے انجام سے آگاہ نہیں۔اللہ تعالیٰ میرا انجام اچھا کیے۔اور مجھے بہشتی مقبرہ کا اہل بنائے۔اگر یہ فضل مجھ پر خدائے قدوس کی طرف سے ہو جائے تو میری خواہش ہے کہ اپنے لوگوں میں دفن ہوں۔